سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 56
۵۶ سے تعلق رکھتی ہیں بارگراں جو حضور کے کندھوں پر ہے اس میں اس صورت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔جبکہ جماعت کے مفصل حالات اور پورے واقعات سے آگاہ ہونے میں توقف ہو گا۔چوتھے جماعت کے قلیل اور غریب ہونے کی وجہ سے جو مالی مشکلات درپیش ہیں وہ اس سفر کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیں گی۔) الفضل ، جولائی ۱۹۲۳ ه ) حضرت مصلح موعود اس سفر کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " میری مالی مشکلات جن کی موجودگی میں اور بوجھ کا اُٹھا نا طبیعت پر ایک حد تک گراں گذرتا ہے۔دوسرے میری صحت بہت خراب رہتی ہے اور اتنے لمبے سفر اور اس کی مشقتوں کو برداشت کرنا میرے لیے شاید ایک بارگراں ثابت ہو کیونکہ اس قدر کثیر اخراجات کے برداشت کرنے کے بعد اگر وقت کو پوری طرح استعمال نہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ کام نہ کیا جائے تو یہ ایک اسراف ہوگا۔جس کو میری طبیعت پسند نہیں کرتی تیرے قادیان سے اس قدر عرصہ تک اتنے فاصلہ پر رہنا کہ جو گویا ایک نئی دنیا ہے مجھے ناپسند ہے۔چوتھے اپنی صحت کی خرابی اور عمر کی نا پائیداری کا خیال کر کے طبیعت ایک تکلیف محسوس کرتی ہے۔پانچویں میری دو بیویاں اس وقت حاملہ ہیں اور دونوں کو اسقاط کا مرض ہے اور بچے ان کو سخت تکلیف سے ہوتے ہیں یہاں تک کہ جان کی فکر پڑھاتی ہے اور ان کے وضع حمل کا زمانہ وہی ہے جو اس سفر میں خرچ ہو گا ؟" الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۲ ته ان مشکلات کے باوجود حضور نے دُعاؤں۔استخاروں کے ساتھ ساتھ قادیان اور بیرونی جماعتوں سے مشورہ بھی لیا۔روز نامہ الفضل لکھنا ہے " جماعت احمدیہ نے اس امر کے متعلق نہایت آزادی سے اپنی راہیں دیں خود مرکز سلسلہ میں اس معاملہ کو ایک عام مجلسی میں پیش کیا گیا جس میں ہر شخص کو اظہار رائے کا موجد دیا گیا۔چنانچہ مخالف اور موافق دونوں قسم کی رائیں مع دلائل پیش کی گئیں اور اچھی طرح وضاحت کے ساتھ تقریریں ہو چکنے کے بعد جب راتیں لی گئیں تو بہت بڑی کثرت حضور کے بذات خود تشریف لے جانے کے حق میں تھی۔اسی طرح بیرو نجات کی جماعتوں کو بھی