سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 398
سة کہ میں پانی کو سنبھالا نہ جائے وہ بجائے فائدہ پہنچانے کے لوگوں کو تباہ کر دیتا ہے میں دودھ کو محفوظ نہ رکھا جائے وہ پھٹ جاتا ہے۔وہی پانی فائدہ پہنچاتا ہے جس کو سنبھالا جائے اور وہی دودھ انسان کو طاقت بخشتا ہے جس کو پھٹنے سے محفوظ رکھا جاتے۔پھٹا ہوا دودھ کس کام آ سکتا ہے ؟ گرا ہوا سالن کون استعمال کرتا ہے کے آگے پڑی ہوئی روٹی کون کھا سکتا ہے ؟ اسی طرح اگر ہم نے اس دُودھ کو محفوظ نہ رکھا جو خُدا نے ہمارے لیے نازل کیا ہے ، اگر ہم نے اس کھانے کی حفاظت نہ کی جو خدا نے نہیں دیا ہے۔اگر ہم نے اس پانی کونہ سنبھالا جو خدا نے آسمان سے اتارا ہے تو یہ پانی اور یہ دودھ اور یہ کھانا ہمارے لیے ایک طعنہ کا موجب بن جائے گا کیونکہ ہمیں چیز تو ملی مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی۔پس میں آج پھر خدا تعالیٰ کے اس پیغام کو جماعت تک پہنچاتا ہوں۔پہلے میری طرف سے ہی گھبراہٹ تھی اور میں جماعت کو بار بار کہتا تھا کہ جلد جلد بڑھو۔جلد جلد اپنا قدم آگے کی طرف بڑھاؤ۔مگر اب خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ گھبرا دینے والا پیغام آگیا ہے کہ روز جزا۔قریب ہے اور رہ بعید ہے" جزاء کا دن بہت قریب ہے مگر تمہاری رہ بہت بعید ہے۔" الفضل ۲۷ را پریل ۱۹۹۲