سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 397
۳۹۷ مگر اللہ تعالیٰ اس کو بھی نا کافی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے تمہارا کرہ بعید ہے یعنی ابھی تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔سفر ابھی بہت باقی ہے اور تمہارا قدم خطرناک طور پر ست ہے حالانکہ میں نے جو کام کرنا تھا وہ کر لیا۔میرا ٹھیکہ پورا ہوگیا۔اور جو چیز میں نے تم کو دینی تھی وہ دیدی مگر تم ابھی اپنے کام کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔اس مفہوم کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اس الہام کا ایک اور امر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔گونزول الہام کے وقت میں نے اس کے وہی معنی سمجھے تھے جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں، لیکن پھر بھی اس الہام کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ بھی اپنی ذات میں کوئی خوش کن نہیں یعنی اس الہام کا ایک یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہر شخص جو تم میں سے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے کوشش کر رہا ہے اس کی یہ کوشش اتنی تھوڑی اور اس قدر کم ہے کہ اس کی اس کوشش اور جدوجہد کے مقابلہ میں اس کی زندگی کے جس قدر ایام ہیں ان میں ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔گویا تم میں سے ہر شخص جو کوشش آج اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے لیے کر رہا ہے اگر مرتے دم تک وہ اسی رنگ میں کوشش اور جدوجہد کرتا رہے اور اپنا قدم تیز نہ کرے تو یہ کوششیں اس قدر کم ہیں کہ تمہارا یہ خیال کرنا کہ ان کوششوں کے نتیجہ میں تم اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو گے یہ ناممکن ہے۔اگر تمہاری کوشش اور جدوجہد کی یہی رفتار رہی تو تم اپنی زندگی میں یوم جزا کو نہیں دیکھ سکو گے۔یہ معنی اگر لیے جائیں تو یہ بھی کوئی خوشکن معنے نہیں بینگر جو معنے اس وقت میں نے سمجھے وہ یہی تھے کہ روز جزاء قریب ہے" کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جو و عدسے فرماتے ہیں ان کے پورا سے ا ہونے کا وقت آگیا۔آسمان پر فرشتوں کی فوجیں اس دن کو لانے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔مگر جو کوشش تم کر رہے ہو وہ بہت ہی حقیر اور بہت ادنی اور معمولی ہے۔جب ہم نے اپنے فضل کا دروازہ کھول دیا۔جب آسمان سے فرشتوں کی فوجیں زمین میں تغیر پیدا کرنے کے لیے نازل ہوگئیں۔جب گھر کی بربادی کا وقت آپہنچا۔جب اسلام کے غلبہ کی گھڑی قریب آگئی تو اس وقت تم اگر پوری طرح تیار نہیں ہو گے تم نے اپنے اندر کامل تغیر پیدا نہیں کیا ہوگا تم نے اپنی اصلاح کی طرف پوری توجہ نہیں کی ہوگی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اس دن سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رہ جاؤ گے اور اسلام کی دائی ترقی میں روگ بن جاؤ گے۔کیا تم نہیں دیکھتے