سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 395 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 395

۳۹۵ جگہ پہنچا آئی۔۔۔الفضل ۲ رمتی ۱۹۲۴ ۳ ہمارے جلسہ کو ناکام بنانے اور جماعت کی مخالفت میں شر و فساد کرنے والوں کو نہایت پر حکمت انداز میں مقابلہ کی دعوت دیتے ہوئے حضور نے فرمایا :- اس شور و شر سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔آپ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے دلوں میں اسلام کا در دہے اور آپ اپنے زعم میں نہیں دشمن اسلام تصور کرتے ہوئے ہمارے مٹانے کے درپے ہیں۔انسان نے بہر حال ایک دن مرنا ہے۔کوئی پہلے مرجاتے گا کوئی پیچھے مرے گا۔اس لیے آؤ میں ایک مفید اور صحیح طریق فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بتا دیا کہ ہم میں سے کونسا فراق اپنے دلوں میں اسلام کی سچی محبت اور اس کے لیے سچا در درکھتا ہے اور اس سے تبلیغ اسلام کو بھی بہت بڑا فائدہ پہنچے گا۔اور وہ طریق فیصلہ یہ ہے کہ آپ لوگ اپنی اپنی جماعت اور اپنے اپنے ہم خیال لوگوں میں سے اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والے نوجوانوں اور تبلیغ دین کے لیے اپنی جائیدادیں اور اموال راہِہ خُدا میں دینے والے اشخاص کا مطالبہ کریں تاکہ اس کے ذریعہ سے بلا د عر بیہ اور اطراف و اکناف عالم میں اسلام کی تبلیغ ہو سکے۔میں بھی اپنی چھوٹی اور غریب جماعت سے یہی مطالبہ کروں گا۔اس کے نتیجہ سے دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ کن کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ہاتھ ہے اور کونسا فریق اسلام کا حقیقی خیر خواہ اور دلوں میں اس کا سچا درد رکھتا ہے۔میری تازہ تحریک پر جو میں نے اپنی جماعت میں ابھی حال ہی میں کی ہے اس وقت تک ڈیڑھ سو اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر چکے ہیں۔اور ایک کروڑ روپیہ کی جائیداد اس وقت تک وقف ہو چکی ہے۔پس گالیاں دینے۔اینٹ اور پتھر برسانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اگر آپ لوگ سچے ہیں تو میں دعوت دیتا ہوں کہ میدان میں نکلیں اور اس طریق فیصلہ کو قبول کرکے اپنے دعوی کی صداقت کو ثابت کریں۔الفضل ۶ رمتی ۱۹۴۲ تر : مخالف علماء کو قرآنی معارف و تفسیر لکھنے میں مقابلہ کی دعوت دیتے ہوتے آپ نے فرمایا :- میں یہ دعوی کرتا ہوں کہ بے شک ہزار عالم بیٹھ جائیں اور قرآن مجید کے کسی حصہ کی تفسیر میں میرا مقابلہ کریں۔مگر دنیا تسلیم کرے گی کہ میری تفسیر ہی حقائق و معارف اور روایات کے لحاظ سے بے نظیر ہے" ا فرقان اپریل کے ا م ) (