سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 384
مسم بڑا ذریعہ ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا ؛ " جماعت کے علما اور واقفین اور مدرسہ اور جامعہ کے طلباء بھی اچھی طرح کمیونسٹ تحریک کا مطالعہ کریں اور ان کے جوابات سوچ چھوڑیں اور اگر کسی امر کے متعلق تسلی نہ ہو نو میرے ساتھ بات کرلیں اسی طرح کا لجوں کے پروفیسروں اور سکولوں کے اساتذہ کو ماہیئے کہ میونسٹ تحریک کے متعلق اپنا مطالعہ وسیع کریں اور اگر گوئی کی رہ جائے تو مجھ سے مل کر ہدایات لے لیں۔۔۔۔۔۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ زیادہ مقابلہ ہمارا کمیونسٹوں سے ہی ہے۔انہوں نے دہریت کو مذہب کے طور پر بنالیا ہے۔خدا تعالیٰ سے یہاں تک ہنسی اور تمسخر کیا جاتا ہے اور ایسے ڈرامے کھیلے جاتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ مجرم کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے نعوذ باللہ دنیا میں فساد اور خرابی پیدا ہوئی اور پھر کمیونسٹ حج خدا تعالیٰ کو نعوذ بالہ پھانسی کی سزا دیتا ہے کہ میں اس پہلے کو پھانسی کی سزا دیتا ہوں کیونکہ اس کے وجود کے خیال کی وجہ سے دنیا میں تمام خرابی پیدا ہوئی ---- اس کی تمام کامیابی عارضی اور سطحی ہے۔موجودہ جنگ کے بعد اس تحریک کا کلی طور پر دنیا کو مقابلہ کرنا ہوگا اور یہی وہ آخری لڑائی ہوگی جو ظاہری لحاظ سے سیاسی وجوہ کی بنام پر لڑی جائے گی مگر وہ لڑائی ایسی ہوگی کہ خدا تعالیٰ دوسروں کو آگے کر کے مذہب کے لیے راستہ کھول دیگا " الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۲۳ ) خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضور کی اس پیش خبری کے مطابق کمیونزم کے طوفان کا زور ٹوٹ چکا ہے اور مذہب کے لیے رستے کھل رہے ہیں۔حضرت مصلح موعودہؓ کی ان تحریکات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پہلے سے نازل ہونے والے افضال و برکات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔جماعت کی کثرت کی وجہ سے مسجد مبارک میں توسیع کی ضرورت پیش آگئی۔حضور اس کی تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس مسجد کو پہلو کی طرف بڑھا دیا جائے۔اس سے انشاء اللہ یہ مسجد موجودہ مسجد سے دگنی ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے قلب میں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف ہوتا ہے گو س العام یا روبار کی بناء پر میں یہ نہیں کہہ رہا مگر میرا قلب یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص جو یہاں نماز پڑھنے کے لیے آتا ہے وہ سلسلہ کی ترقی کے لیے ایک نیا باب کھولتا ہے۔(الفصل 4 اپریل لہ ) ۱۶