سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 38 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 38

مجلس انصار الله : مسیحی نفس حضرت فضل عمر نے اسلام کے درد اور دینی خدمات کا جو غیر معمولی والہانہ جذبہ پایا تھا اس کا اظہار اس عظیم الشان عمد سے بھی ہوتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر آپ نے کیا اور جسے پورا کرنے کے لیے آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اور آپ کے ذہن کی تمام تر استعدادیں وقف تھیں آپ بزبان حال من انصاری الی اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی توجہ اور دعاؤں سے زندگی پانے والے حضرت مولانا نور الدین کی محبت سے فیض پانے والے آسمان رُوحانیت کے بلند پرواز پرندے يأتينك سعيا کی صورت میں آپ کی راہنمائی میں خدمت دین کی مہم میں مصروف ہو جاتے ہیں۔انصار اللہ نے خلافت اولی کے زمانے میں بنیادی اہمیت کی خدمات کی توفیق پائی اور نعمت خلافت کی قدر دانی اور اس کے استحکام واستقلال کے سلسلہ میں اپنی خدمت کے انمٹ نقوش تاریخ میں ثبت کر گئے۔ہ اور پھر ان میں بھی انصار کے نام سے علمی و روحانی ترقی کی منزلیں طے کیں نشتہ میں آپ نے اس مبارک گروہ کو ایک مستقل تنظیم و ترتیب میں پرونے کے لیے اسی نام سے ایک مجلس کے قیام کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا :- " چالیس سال سے اوپر عمر والے میں قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں مجلس انصاراللہ کے عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب ہونگے اور سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کے لیے میں مولوی عبدالرحیم صاحب در در چوہدری فتح محمد صاب سیال اور خانصاحب مولوی فرزند علی کو مقرر کرتا ہوں۔۔۔۔۔سر دست میں نے جن لوگوں کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے وہ عارضی انتظام ہے اور اس وقت تک کے لیے ہے جب تک سب لوگ منظم نہ ہو جائیں۔جب منظم ہو جائیں تو وہ چاہیں توکسی اور کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنا سکتے ہیں۔مگر میری منظوری اس کے لیے ضروری ہوگی۔اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ۔ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لیے مجالس انصاراللہ قائم کرنی چاہتیں۔ان مجالس نے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصاراللہ کے قواعد ہونگے مگر سر دست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طور پر نہیں ہوگا۔بلکہ ان مجالس میں شامل