سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 370 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 370

مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا۔اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس وقت معاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مثیلہ میں اس کا نظیر ہوں و خلیفته اور اس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لیے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہی ہوں۔کیونکہ جو کسی کا نظیر ہوگا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گا۔وہ ایک رنگ میں اس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لیے انہیں سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔اور جب میں کہتا ہوں " میں وہ ہوں جس کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورت ہیں۔جو سات یا نو ہیں۔جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔مجھے السلام علیکم کہتیں اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لیے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انہیں سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں ؟ اس کے بعد میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جیسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔رویا میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی۔اس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھا گے گا۔تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک تھیل ہوگی اور جب وہ اُس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہوگی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اس تبلیغ سے متاثرہ ہو کر مسلمان ہو جائے گی۔تب وہ دشمن جس سے وہ موعود بھاگے گا۔اس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے مگر وہ قوم انکار کر دے گی۔اور کیسے گی ہم لڑ کر مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے کردو۔اس