سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 37
ہوتی ہیں۔وہی لوگ غلام بنتے ہیں جو اپنی جانوں کو قربان کرنے سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مر نہ جائیں۔وہ ایک وقت کی موت قبول نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ انہیں بعض دفعہ صدیوں کی موت دیدیتا ہے۔الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۶ ) اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ جماعتی جھنڈے اور دوسرے شعائر کے تحفظ اور احترام کے جذبہ کی حضور کے دل میں کتنی قدر و منزلت تھی ، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو یہ بھی خیال تھا کہ یہ جذبہ عدا عتدال سے کبھی باہر نہ جائے۔نجتیں کبھی کبھی شرک کا رنگ بھی اختیار کر لیا کرتی ہیں۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ کانگریسی اپنے جھنڈے کو سلام کرتے ہیں اور بعض تو می جھنڈے کے سامنے اس طرح جھک جاتی ہیں۔جیسے رکوع کیا جاتا ہے۔یہ سب نا جائزہ امور ہیں۔پس جہاں تم شعائر اللہ کی حفاظت کرو اور قومی شعائر کا ادب و احترام اپنے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کرو۔وہاں تم اس بات کو بھی یاد رکھو کہ ان چیزوں کو کبھی ایسا مقام مت دو کہ یہ زندہ خدا کی جگہ لے لیں۔ہمارا خدا واحد خدا ہے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا جائز نہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن چیزوں کو ہم خادم سمجھتے ہیں ان کو آقا کی جگہ دے دیں۔اس سے زیادہ بے وقوفی اور حماقت کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔پس جہاں میں تمہیں شعائر اللہ اور قومی شعائر کی صفات کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا اور اس کے دین کے لیے تمہیں بلایا جائے اس وقت تم اپنی جانوں کی اتنی قیمت بھی نہ سمجھو جتنی ایک مری ہوئی سکھی کی ہوتی ہے۔وہاں میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ کسی چیز کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں مت کھڑا کرو۔ہمارا خدا ایک خدا ہے۔اس کی قدرتوں میں کوئی شریک نہیں۔اس کی حکومت میں کوئی شریک نہیں۔اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں۔جو شخص کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے۔چاہے شریک قرار دیا جانے والا خدا کا نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو وہ راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔مگر جو تمام چیزوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے خدا کو خدا کی جگہ دیتا ہے۔رسول کو رسول کی جگہ دیتا ہے شعائر کو شعائر کی جگہ دیتا ہے۔وہی خدا کے حضور عزت پاتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی “ ( الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۳ته )