سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 36 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 36

یہ ہوتا ہے کہ برتن گر جاتا ہے۔اسی طرح جب اس سے جھنڈا مانگا گیا اور اس نے جھنڈا دوسرے کو دینے کے لیے آگے بڑھا دیا تو اس نے خیال کیا کہ دوسرے نے جھنڈا پکڑ لیا ہو گا۔مگر اس نے ابھی پکڑا نہیں تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جھنڈا ریل سے باہر جاپڑا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ چھوٹا لڑکا جس کے ہاتھ سے جھنڈا گرا تھا فورا نیچے کودنے لگا۔مگر وہ دوسرا جس نے جھنڈا مانگا تھا۔اس نے اسے فوراً روک لیا اور خود نیچے چھلانگ لگا دی۔لاہور کے خُدام کہتے ہیں ہم نے اسے اوندھے گرے ہوئے دیکھ کر سمجھا کہ وہ مر گیا ہے۔مگر فوراً ہی وہ اُٹھا اور جھنڈے کو پکڑ لیا اور پھر ریل کے پیچھے دوڑ پڑا دیل تو وہ کیا پکڑ سکتا تھا۔بعد میں کسی دوسری سواری میں بیٹھ کر اپنے قافلہ سے آملا ئیں سمجھتا ہوں اس کا یہ فعل نہایت ہی اچھا ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی تعریف کی جاتے۔خدام الاحمدیہ نے اس کے لیے انعام مقرر کیا تھا اور تجویز کیا تھا کہ اسے ایک تمغہ دیا جائے۔مگر اس وقت یہ روایت میرے پاس غلط طور پر پہنچی تھی اس لیے میں نے وہ انعام اسے نہ دیا۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صحیح بات یہ ہے کہ جھنڈا اس کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا بلکہ دوسرے کے ہاتھ سے گرا تھا۔پہلے مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ اسی کے ہاتھ سے جھنڈا گرا تھا۔گویا جھنڈا ہاتھ سے چھوڑنے میں بے احتیاطی کی وجہ سے اس کے قابل تعریف فعل کے باوجود اسے انعام دینا مناسب خیال نہ فرمایا ) بہر حال یہ ایک نہایت ہی قابل تعریف فعل ہے۔خدام الاحمدیہ سے ہمیشہ اس بات کا اقرار لیا جاتا ہے کہ وہ شعائر اللہ کا ادب اور احترام کریں گے۔اسی طرح قومی شعائر کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔اس اقرار کو پورا کرنے میں لاہور کے اس نوجوان نے نمایاں حصہ لیا ہے اور میں اس کے اس فعل کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس نوجوان کا نام مرزا سعید احمد ہے اور اس کے والد کا نام مرزا شریف احمد ہے۔بظاہر یہ بجھا جائے گا کہ اس نوجوان نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا مگر جہاں قومی شعائر کی حفاظت کا سوال ہو وہاں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔اور در حقیقت وہی لوگ عزت کے مستحق سمجھے جاتے ہیں جو اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔وہ لوگ جو اپنی جان کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں کی جانیں دُنیا میں سب سے زیادہ سستی اور بے حیثیت کبھی جاتی ہیں۔آخر غلام قومیں کون