سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 366
طرف تھی۔پس چونکہ میں انتہائی بائیں طرف تھا اور جس طرف وہ مجھے بلا رہا تھا وہ انتہائی دائیں طرف تھی۔اس لیے میں لوٹ کر اس سڑک کی طرف چلا۔مگر جس وقت میں پیچھے کی طرف واپس ہٹا۔ایسا معلوم ہوا کہ کسی زبر دست طاقت نے مجھے پکڑ کر درمیان میں سے گزرنے والی ایک پک ڈنڈی پر چلا دیا۔میرا ساتھی مجھے آواز میں دیتا چلا جاتا ہے کہ اس طرف نہیں اس طرف۔اُس طرف نہیں اس طرف۔مگر میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پاتا ہوں اور درمیانی پگڈنڈی پھر بھاگتا چلا جاتا ہوں۔راس جگہ کی شکل رویانہ کے مطابق اس طرح بنتی ہے )۔مغرب دایاں پہاڑی راسته درمیانی پگڈنڈی جو آگے جا کہ پھر دوشاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہے بایاں پہاڑی راستت شمال دامن کوہ کا علاقہ مشرق جب میں تھوڑی دور چلا تو مجھے وہ نشانات نظر آنے لگے۔جو پیشگوئی میں بیان کئے گئے تھے اور میں کہتا ہوں۔میں اسی راستہ پر آگیا جو خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں بیان فرمایا تھا۔اس وقت رویا۔میں میں اس کی کچھ توجیہ بھی کرتا ہوں کہ میں درمیانی پک ڈنڈی پر جو چلا ہوں تو اس کا کیا مطلب ہے۔چنانچہ جس وقت میری آنکھ کھلی۔معا مجھے خیال آیا کہ دایاں اور بایاں استہ جو رویا۔میں دکھایا گیا ہے۔اس میں بائیں رستہ سے مراد خالص دنیوی کوششیں اور تدبیریں ہیں اور دائیں رستہ سے مراد خالص دینی طریق۔دعا اور عبادتیں وغیرہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کی ترقی درمیانی راستے پر چلنے سے ہوگی۔یعنی کچھ تدبیریں اور کوششیں ہونگی اور کچھ دعائیں اور تقدیریں ہونگی۔اور پھر یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ دیکھو قرآن شریف نے اُمت محمدیہ کو امة وسطاً قرار دیا ہے۔اس وسطی راستہ پر چلنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ امت اسلام کا کامل نمونہ ہو گی۔اور چھوٹی پگڈنڈی کی یہ تعبیر ہے کہ درمیانی راستہ گو درست راستہ ہے مگر اس میں مشکلات بھی