سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 349 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 349

۳۴۹ پس منظر : وقت جدید کا ایک پس منظر تو وہ تربیتی کمزوری اور اخلاقی انحطاط ہے جس کی رفتار بالخصوص تقسیم ہندو پاک کے بعد کئی وجوہ سے خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔حضرت اقدس المصلح الموعود نے اپنی خدا داد فراست سے اس خطرے کو بڑی شدت سے محسوس فرمایا میں کی اگر بر وقت روک تھام نہ کی جاتی تو یہ ایک ایسی مہیب شکل اختیار کر سکتا تھا جو قا بو سے یا ہر ہو جاتی اور پیشتر اس کے کہ ہم اسلام کو غیر ملکوں اور غیر مذاہب میں پھیلانے میں کامیاب ہوتے یہ خطرہ تھا کہ خدا نخواستہ ہم خود از سر نو ہدایت کے محتاج ہو چکے ہوتے۔ایسی صورت میں وہ لوگ جنہیں ہم ہدایت کی طرف بلانے جاتے ہمارے پیغام کو ٹھکرا کر بڑی حفارت سے نہیں یہ کہہ سکتے تھے کہ PHYSICIAN HEAL THY SELF! اسے طبیب خود اپنا علاج کر دوسرا پس منظر اس فوری اور اشد ضرورت سے بہت قبل کا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواہش سے تعلق رکھتا ہے حضور علیہ السلام کے مندرجہ ذیل الفاظ احباب پر خوب روشن ہوجائیگا کہ حضرت اقدس علیہ اسلام وقف جدید ہی کی قسم کا کوئی نظام بر صغیر ہند و پاک میں جاری فرمانا چاہتے تھے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :- "اس عاجز کا ارادہ ہے کہ اشاعتِ دینِ اسلام کے لیے ایک احسن انتظام کیا جائے کہ ممالک ہند میں ہر جگہ ہماری طرف سے واعظ و مناظر مقرر ہوں اور بندگان خدا کو دعوت حق کریں تا حجیت اسلام تمام روئے زمین پر پوری ہو۔لیکن اس ضعف اور قلت کی حالت میں ابھی یہ اراده کامل طور پر انجام پذیر نہیں ہو سکتا " فتح اسلام ) اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ وقت جدید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواہش کو پورا کرنے کی غرض سے جاری کی گئی۔یہ کون نہیں جانتا کہ انبیاء کی خواہش ایک عام انسان کی خواہش کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اُن کے دل کے میلانات اور آرزوئیں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور باریک دربار یک حکمتوں پر مبنی ہوتے ہیں پیس ایک طرف اس خواہش کا راستی ) ۸۰ برس قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں پیدا ہونا اور دوسری طرف ہماری آنکھوں کے سامنے وہ حالات پیدا ہوجانا جوبڑی شدت سے نظام وقف جدید کا تقاضہ کر رہے تھے