سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 350
اس تحریک کا پس منظر بناتے ہیں۔عالی حضرت الصلح المولوم پر بے مارتین از فرماتے کہ حضرت موعود الاسلام کی نام خواہشات آپ کے زمانہ میں یا پوری ہوئیں یا اُن کی بنیادیں رکھی گئیں۔وقف جدید کی بنیاد بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق آپ ہی کے مبارک ہاتھوں رکھی جانی مقدر تھی۔چنانچہ نشانہ میں عیدالاضحیہ کے موقع پر آپ نے اس الیمن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :- پشاور سے کراچی تک گر شد و اصلاح کا جال پھیلایا جائے۔بلکہ اصلی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیرا کرتا ہے تو اس کے لیے ہمیں ایک کروڑ روپے سالانہ سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے ؟ حضرت المصلح الموعود کے یہ الفاظ پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آپ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی اس آرزو ی پر یس کا ذکر او پر گزر چکا ہے لبیک یا سیدی بھیک کہ رہے ہوں۔پھر فرما۔" اب مہا جال ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس کے ذریعہ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جاتے۔بلکہ گاؤں کے ہر گھر تک ہماری پہنچ ہوا پس یہی صا حال ہے جو مصلح موعود کے ہاتھوں ڈالا گیا اور اسی کا دوسرا نام و قفت جدید امین احمدیہ ہے۔اغراض و مقاصد :- جیسا کہ قبل ازیں ذکر گزر چکا ہے وقفت جدید کے قیام کا بنیادی مقصد دیہاتی جماعتوں کی تربیت و اصلاح ہے تاکہ ان کا رخ انحطاط سے موٹر کمر انہ سر نو ترقی کی جانب پھیر دیا جائے۔گویا جس طرح احمدیت اسلام کے احیات نو کی تحریک ہے اسی طرح نسبتاً محدود پیمانے پر وقف جدید احمد تیت کے احیائے نو کی ایک تحریک ہے جس کے زیر انتظام دبیاتی علاقوں میں احمدیوں کے مذہبی ، روحانی اور اخلاقی اقدار کو اسلامی معیار کے مطابق بلند تر کرتے چلے جانے کا عظیم الشان کام سرانجام دیا جاتا ہے۔یعنی مقصد یہ ہے که خصوصاً اُن علاقوں میں جو تعلیم کی کی یا مرکز کی آنکھ سے اوجھل ہونے کے باعث مرور زمانہ کا شکار ہونے کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔اُن کی نگرانی اور تعلیم و تربیت کا ایسا عمدہ اور مستقل انتظام کیا جائے کہ ان میں روحانی زندگی کو نہ صرف برقرار رکھنے کی اہمیت پیدا ہو جاتے بلکہ اس زندگی میں نمو اور افزائش بھی ہو اور دیہات میں بننے والی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کروحانی اولاد ایسے ہرے بھرے شاداب باغوں کی طرح ہو جائے جن کا ذکر حضور علیہ السلام کی اس منظوم پیشنگوئی میں ملتا ہے۔