سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 332 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 332

بحدة الرملة ۳۳۲ سیرت کے باب میں آتے گا۔وباللہ التوفیق۔مالی قربانی کے سلسلہ میں بھی حضور کا ذاتی نمونہ انتہائی قابل رشک اور بے مثال ہے۔آپ نے ذاتی طور پر اس ایک مد میں سنہ یعنی تحریک کے آغاز سے یہ اپنی زندگی کے آخری سال تک ۲٫۵۴,۴۶۸ روپے چندہ ادا کیا۔اس کے علاوہ ایک نہایت قیمتی ذاتی جائیداد ملکیتی ۱,۵۲۷۰ روپے بطور عطیہ عنایت فرمائی جس کی موجودہ قیمت کئی گنا زیادہ ہو چکی ہوگی، گویا مجموعی طور پر ان سالوں میں حضور نے چار لاکھ سات ہزار ایک سواڑسٹھ روپے چندہ ادا فرمایا۔حضور کے بچوں اور خاندان کے دوسرے افراد کے چندے اس کے علاوہ ہیں) ذاتی قربانی کی اس شاندار مثال کی عظمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور کا اپنی زندگی میں آخری وعدہ ۱۲۵۰۰ روپے تھا اور یہ میں چندہ حضور کی وفات کے بعد بھی آپ کی طرف سے باقاعدہ بغیر کسی وقفہ اور تعطل کے ادا ہو رہا ہے جو یقیناً ایک نہایت کار آمد صدقہ جاریہ کے طور پر حضور کے درجات کی بلندی اور رفعت و قرب کا باعث بن رہا ہو گا۔اور اس طرح حضور کی وہ مقدس خواہش بھی بطریق احسن پوری ہو رہی ہے کہ تبلیغ اسلام کا جو بھی کام ہو اس میں حضور کا حصہ ہو اور وہ حضور کے ہاتھوں سے انجام پاتے۔تحریک جدید کا ایک نمایاں اور اہم مطالبہ مالی قربانی کا تھا اس پہلو میں جماعت کی قربانیوں نے دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا۔حضور نے ساڑھے ستائیس ہزار کا مطالبہ کیا تھا جو اس وقت ایک بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔(یاد رہے یہ سنہ کی بات ہے جب گندم دو روپے من بلکہ اس سے بھی سنی تھی) مگر جماعت نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اپنی انتہائی ضروری حاجات کو ملتوی کر کے اپنے گھر کا اثاثہ بیچ کر قرض لیکر۔غرض جس طرح بھی ممکن ہوا حضور کی خدمت میں قریباً ایک لاکھ روپے گویا مطالبہ سے تین گنا سے بھی زیادہ پیش کر دیا۔ہمارے موجودہ امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے اور تحریک جدید کی مالی فتوحات اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی برکات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مخصوص پیارے انداز میں فرمایا۔اگر کسی دعویدار کو ایسے لوگ نصیب ہو جائیں جن کے خرچ کی ایسی ادائیں ہوں۔جن کی یہ خصلتیں ہوں جن کے ساتھ خدا کا یہ سلوک ہو کہ ان کے اعمال بھی ساتھ ہی سدھر رہے ہوں اور ان کے اموال بھی کم نہ ہو رہے ہوں بلکہ بڑھ رہے ہوں۔اس دُنیا میں بھی ان کو پہلے سے بڑھ کر عطا ہو رہا ہو۔ایسے لوگ دکھاؤ کہ غیروں میں بھی کہیں ملتے ہیں۔۔۔۔۔یہ ایک انبیاء کی عظیم الشان امتیازی شان ہے کہ ان کو ایسے انصار عطا