سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 327
۳۲۷ " ان تمام مطالبات کا مقصد محض جماعت کے اندر اخلاق حسنہ کو قائم کرنا تھا اور ان مطالبات کا مقصد محض یہ تھا کہ جماعت اپنے حالات کے مطابق خرچ کرنے کی عادت ڈالے اور تباہی کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہے۔اسی طرح امرامہ اور غرباء میں جو تفاوت پایا جاتا ہے وہ روز بروز کم ہوتا چلا جائے۔سینما دیکھنے کی جو ممانعت کی گئی تھی وہ بھی اسی کے ماتحت آجاتی ہے کیونکہ انس سے روپیہ الگ ضائع ہوتا ہے اور اخلاق الگ تباہ ہوتے ہیں۔مجھے افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں اب یہ تحریک اتنی مضبوط نہیں رہی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی بلکہ آہستہ آہستہ اس کے اُصول پر عمل کرنے میں کمی واقع ہو گئی ہے میں اور لوگوں کو کیا کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔خود ہمارے گھروں میں اس پر پوری طرح عمل نہیں رہا تھا اور کئی بہانوں سے حکم کو زور کیا جاتا رہا۔آخر اس دفعہ ڈلہوزی نہیں میں نے وہی طریق اختیار کیا جو قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ یا تو ان قواعد کی پابندی کرو ورنہ مجھ سے طلاق لے لو۔میں نے بھی اپنی بیویوں سے کہہ دیا کہ یا تو تم تحریک جدید پر عمل کرو اور اگر تم عمل کرنا نہیں چاہتیں تو مجھ سے طلاق لے لو۔اس پر سب نے عہد کیا کہ وہ آئندہ تحریک جدید پر باقاعدگی سے عمل کیا کریں گی۔چنانچہ اس دن کے بعد ہمارے گھروں میں اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اپنے حالات کو نہیں بدلتے جب تک ہم اپنے اخراجات کو بعض حدود میں نہیں رکھتے اور جب تک اپنے اندر جفاکشی اور محنت کی عادت پیدا نہیں کرتے اس وقت تک ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس وقت دُنیا سے جو ہماری لڑائی جاری ہے وہ اتنی عظیم انسان ہے کہ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کروڑوں کروڑ روپیہ پانی کی طرح نہیں گرد و غبار کی طرح اُڑانا پڑے گا ، مگر سوال یہ ہے کہ ہماری غریب جماعت یہ کروڑوں کروڑ روپیہ لائے گی کہاں سے۔جب تک ہماری جماعت اپنے اخراجات پر پابندی عائد نہیں کر لیتی جب تک ہماری جماعت کے اندر امراء اور غرباء میں برابری پیدا نہیں ہو جاتی۔جب تک ہمارے اندار کامل طور پر احساس پیدا نہیں ہو جاتا کہ ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔جب تک کھانے کے لحاظ سے ہمارے اند ر سادگی نہیں آجاتی۔جب تک کپڑوں کے لحاظ سے ہمارے اندر سادگی نہیں آجاتی۔جب تک زیورات کے لحاظ سے ہمارے اندر سادگی نہیں آجاتی۔جب