سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 325 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 325

۳۲۵ اسے فخر کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔مؤرخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جسکی مثال نہیں ملتی اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہیں حکومت کے اس عنصر کو جو نہیں مثانے کے درپے تھا متواتر ذلت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔اور احرار کو تو اللہ تعالیٰ نے ایسا ذلیل کیا ہے کہ اب وہ مسلمانوں کے سیٹج پر کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سب دشمنوں کو ایسی سخت شکست دی ہے کہ حکام نے خود اس کو تسلیم کیا ہے؟ الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۳۵ ) تحریک جدید کے مختلف مطالبات پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ مں جو با برکت انقلاب جماعت میں پیدا ہوا اس کا ذکر کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں :-۔مگر یہ سب فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہوئیں۔ہمارا مقصد نہیں۔ہمارا مقصد ان سے بہت بالا ہے۔اور اس میں کامیابی کے لیے ابھی بہت قربانیوں کی ضرورت ہے ؟ ( الفضا ) " اس تحریک (جدید) کے پہلے دور کی میعاد دس سال تھی۔۔۔۔۔۔اس دور میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جس قربانی کی توفیق دی ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس نے اس عرصہ میں جو چندہ اس تحریک میں دیا وہ تیرہ چودہ لاکھ روپیہ بنتا ہے اور اس روپیہ سے جہاں ہم نے اس دس سال کے عرصہ میں ضروری اخراجات کہتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ریز رو فنڈ بھی قائم کیا ہے اور اس ریز رونڈ کی مقدار ۲۸۰ مربع زمین ہے۔اس کے علاوہ بھی ایک سو مربع زمین ایسی ہے جس میں سے کچھ حصہ کے خریدنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔کچھ حصہ گو خریدا تو گیا ہے مگر اس پر ابھی قرض ہے اسے اگر شامل کر لیا جائے تو کل رقبہ ۳۸۰ مربع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس دوران میں تحریک جدید کے ماتحت ہمارے مبلغ جاپان میں گئے۔تحریک جدید کے ماتحت چین میں مبلغ گئے۔تحریک جدید کے ماتحت سماترا اور جاوا میں مبلغ گئے اور اس تحریک کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے سپین - اٹلی۔ہنگری - پولینڈ البانیہ - یوگو سلاویہ اور امریکہ میں بھی مبلغ گئے اور افریقہ کے بعض ساحلوں پر بھی اسی تحریک کے ماتحت مبلغ گئے۔اور ان مبلغین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔