سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 320
صدی آئی، لیکن اس قوم نے ہمت نہ ہاری آخر تین سوسال بعد فقیری کی گھڑی پھینک کہ بادشاہت کا خلعت پہنا اور آنا فانا سب دنیا پر چھا گئی۔اس لیے انتظار کا نتیجہ تھا کہ وہ اس قدر لیے عرصہ تک حکومت کرنے کے قابل ہو گئی۔جماعت احمدیہ کے انتظار کا زمانہ تو اس سے بہت کم ہے پھر کیا ہمارا صبر پہلے مسیح کی امت سے زیادہ شاندار نہیں ہونا چاہیئے۔ہمارے میں نے جو معجزات دکھاتے وہ پہلے میچ سے بہت زیادہ اور اہم ہیں۔پھر کیا ہمارے ایمان ان سے بہت زیادہ قومی نہیں ہونے چاہتیں اور کیا اسی کے مطابق ہماری قربانیاں بڑھی ہوئی نہیں ہونی چاہتیں۔" الفضل ۱۳ار اکتوبر ) - جماعت کو پہلے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرنے کے لیے نہایت موثر اور دل نشیں انداز میں حضور نے ارشاد فرمایا : ہر وہ شخص جس کے دل میں سلسلہ کا درد ہے اور جو اس جماعت میں سچے طور پر اور سمجھ کر داخل ہوا ہے نہ کہ محض رسم کے طور پر وہ اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ اب ہماری وہی مثال ہے جس طرح کسی نے کہا تھا تخت یا تختہ۔۔۔کیا عجب ہے کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی وقت آچکا ہو۔جبس احمدی میں ذرہ بھی غیرت اور شرافت کا کوئی حصہ ہو۔آج اس ارادہ اور اس نیت کے بغیر اس کے لیے کام کرنا ممکن ہی نہیں کہ یا تو سلسلہ احمدیہ کے لیے فتح حاصل کریں گے یا ہر چیز کو اس راہ میں قربان کر دیں گے (یہ) دو ہی تحفے ہیں جو ہم خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر سکتے ہیں ؟ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۳۶ ) اپنی کامیابی پر یقین و ایمان اور قربانی کی اہمیت و ضرورت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: " حق یہ ہے کہ میں آپ لوگوں کے سامنے وہ بات پیش کر رہا ہوں جو ایسی ہی یقینی ہے جیسے سورج کا نکلنا۔اگر یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اگر یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت منہاج نبوت یہ پر قائم کی گئی ہے تو جب تک ہماری گردن پر تلواریں نہیں رکھی جاتیں اور جب تک ہمارے خون کی ندیاں دُنیا میں نہیں بھاری جاتیں اس وقت تک ہمارا کامیابی حاصل کرنا ناممکن اور بالکل ناممکن ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوریوں کو دیکھتے ہوتے اس