سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 305 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 305

کی خدمت کے رستہ میں اسے نبھا نہیں سکو گے۔اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کر دیگا۔تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لیے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کر سکتے۔وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جب کہا کہ قربانی کریں گے تو کر لیں گے۔حالانکہ یہ صحیح نہیں۔۔۔۔مجھے ہزار ہا لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم قربانی کے لیے تیار ہیں اور جنہوں نے نہیں لکھا وہ بھی اس انتظار میں میں کر سکیم شائع ہوئے تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے بیگ میں بتاتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب تک اس کے لیے ماحول پیدا نہ کیا جائے۔یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مالی سلسلہ کا ہے۔مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔اس قسم کی قربانی نہ قربانی پیش کرنے والے کو کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے سلسلہ اس کے ان الفاظ کو کہ میرا سب مال حاضر ہے کیا کرے جبکہ سارے مال کے معنے صفر کے ہیں۔جس شخص کی آمد سو روپیہ اور خرچ بھی سو روپیہ ہے۔وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔جب تک کہ پہلے خرچ کو سو سے نوے پر نہیں لے آتا۔تب بے شک اس کی قربانی کے معنے دس فیصدی قربانی کے ہونگے۔۔۔۔پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کے لیے ماحول پیدا کیا جائے۔اس کے بغیر قربانی کا دعویٰ کرنا ایک نادانی کا دعویٰ ہے یا منافقت۔یاد رکھو کہ یہ ماحول اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا۔جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ نہ ہوں۔مرد اپنی جانوں پر عام طور پر پانچ دس فیصدی خرچ کرتے ہیں۔سوائے اُن عیاش مردوں کے جو عیاشی کرنے کے لیے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ورنہ گنیه دار مرد عام طور پر اپنی ذات پر پانچ دیس فیصدی سے زیادہ خرچ نہیں کرتے۔اور باقی توے پچانوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس لیے بھی کہ انکی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ ان کے آرام کا مرد زیادہ خیال سکتے ہیں۔پس ان حالات میں مرد جو پہلے ہی پانچ یا دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس فیصدی اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں اور جن کی آمدنی کا اسی نوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے۔اگر قربانی کرنا بھی چاہیں تو کیا کرسکتے ہیں۔جب عورتیں اور بچے ساتھ نہ دیں اور جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ ہم ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ مرد قربانی کر سکیں۔پس تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قربانی کیلئے پہلے ماحول پیدا کیا جائے اور اس کے لیے ين