سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 304
تلاش کے باوجود مل نہ سکا ہو یا کسی دوسرے گاؤں یا شہر میں گیا ہوا ہو۔جماعتوں کے سیکرٹریوں کو چاہیے کہ وہ میرے اس خطبہ کے پہنچنے کے بعد اپنی اپنی جماعتوں کو اکٹھا کریں اور انہیں کہیں کہ ---- امیر المومنین بنے کا حکم ہے کہ آج وہی شخص اس جنگ میں شامل ہو سکے گا جس کی اپنے کسی بھائی سے رنجش یا لڑائی نہ ہو۔اور جو صلح کر کے اپنے بھائی سے متحد ہو چکا ہو اور جب میں قربانی کے لیے لوگوں کا انتخاب کروں گا تو میں ہر ایک شخص سے پوچھ لوں گا کہ کیا تمہارے دل میں کسی سے رنجش یا بغض تو نہیں اور اگر مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں کسی شخص کے متعلق کینہ اور بغض موجود ہے تو میں اس سے کہوں گا کہ تم بنیان مرصوم نہیں تمہارا کندھا اپنے بھائی کے کندھے سے ملا ہوا نہیں۔بالکل ممکن ہے کہ تمہارے کندھے سے دشمن ہم پر حملہ کر دے۔پس جاؤ مجھ کو تمہاری ضرورت نہیں۔دوسری بات آپ نے یہ کسی کہ آپ کو فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لیے اپنے وطن چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لیے تیار ہوں اور بھوکے اور پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں ریس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو نوجوان ان کاموں کے لیے تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں۔تیرا حکم آپ کا یہ تھا کہ ہر شخص جس کے چندوں میں کوئی نہ کوئی بقایا ہے یا ہر وہ جماعت جس کے چندوں میں بتاتے ہیں وہ فوراً اپنے اپنے بقائے پورے کرے اور آئندہ کیلئے چندوں کی ادائیگی نہیں باقاعدگی کا نمونہ دکھلا ہے ) الفضل ١٨ر نومبر ة ) قربانی کے ماحول کو اور زیادہ نکھارنے کے لیے ان تین حکموں کے علاوہ آپ نے جماعت کو یہ تلقین بھی فرمائی کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ماحول ٹھیک ہو اور گردوپیش کے حالات موافق ہوں۔اگر گرد و پیش کے حالات موافق نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان کے اندر نیکی کرنے کا مادہ بھی موجود ہوتا ہے اور جذبہ بھی۔مگر وہ الیسا ماحول نہیں پیدا کر سکتے جس کے ماتحت صحیح قربانی کر سکیں۔پس ماحول کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو میں نے اسے لکھا کہ یہ بے شک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کے لیے زندگی وقف کی ہوتی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے۔اور یہ امر تمہارے لیے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم دین