سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 301
لوگوں کا دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آپ نے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رکھے ہیں۔اور آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ سے لوگوں نے جنت کا سودا کر لیا۔یہ دعویٰ آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر دوہرایا۔بلکہ آپ میں سے ہزاروں انسانوں نے اس عہد کی ابتداء میرے ہاتھ پر کی ہے۔کیونکہ وہ میرے ہی زمانہ میں احمدی ہوتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے اللہ بیٹے، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیز و اقارب، تمہارے اموال اور تمہاری جائیدادیں تمہیں خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیاری ہیں تو تمہارے ایمان کی کوئی حقیقت نہیں۔یہ ایک معمولی اعلان نہیں بلکہ اعلان جنگ ہو گا ہر اس انسان کے لیے جو اپنے ایمان میں ذرہ بھر بھی کمزوری رکھتا ہے۔یہ اعلان جنگ ہو گا ہر اس شخص کے لیے جس کے دل میں نفاق کی کوئی بھی رگ باقی ہے ، لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے تمام افراد الا ماشاء اللہ سوائے چند لوگوں کے سب پیچھے مومن ہیں۔اور اس دعوے پر قائم ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا اور اس دعوے کے مطابق جس قربانی کا بھی ان سے مطالبہ کیا جائے گا اسے پورا کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۳ ) اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں :- " اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس رنگ میں قربانی کریں جو بہت جلد نتیجہ خیز ہو کہ ہمارے قدموں کو اس بلندی تک پہنچا دے جس بلندی تک پہنچانے کے لیے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام دُنیا میں مبعوث ہوئے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں میں سے بعض کو دور دراز ملکوں میں بغیر ایک پیسہ لیے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو آپ لوگ اس حکم کی تعمیل میں نکل کھڑے ہونگے۔اگر لبعض لوگوں سے ان کے کھانے پینے اور پہننے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اس مطالبہ کو پورا کریں گے۔اگر بعض لوگوں کے اوقات کو پورے طور پر سلسلہ کے کاموں کے لیے وقف کر دیا گیا تو بغیر چوں و چرا کئے اس پر رضامند ہو جائیں گے اور جو شخص ان مطالبات کو پورا نہیں کریگا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا بلکہ الگ کر دیا جائے گا " ) الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۳)