سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 296 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 296

۲۹۶ تحریک جدید کے دوسرے دور کی تحریک سے میری غرض یہی ہے کہ ہم دنیا میں اسلامی تعلیم قائم کریں۔اسلامی تعلیم اس وقت مٹی ہوتی ہے اور ہم یہ کہہ کر اپنے دل کو خوش کر لیتے ہیں کہ اس کا قیام حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھنے والی باتیں بہت تھوڑی ہیں اور ان کا دائرہ بہت ہی محدود ہے باقی زیادہ تر ایسی ہیں کہ ہم حکومت کے بغیر بھی ان کو رائج کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اسکی توحید اور عرفان کی خواہش دل میں رکھنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا صفات الیہ کو اپنے اندر پیدا کرنا اور پھر اس کو دنیا میں رائج کرنا۔قرب الہی کے حصول کی کوشش کرنا۔امانت دیانت به راستبازی وغیرہ سینکڑوں باتیں ہیں جن کا حکومت سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔۔۔۔اسلامی تعلیم کو اپنے اندر اس طرح جاری کر لینا چاہیئے کہ اگر دنیوی سکول توڑ بھی دیئے جائیں تو ہر احمدی اپنی جگہ پر پروفیسر اور فلاسفر ہو جو اپنے بچوں کو گھروں میں وہی تعلیم دے جو ہم نے سکولوں میں دینی ہے یعنی اگر کوئی وقت ایسا بھی آجاتے جب دینی تعلیم کا انتظام حکومت ہمیں نہ کرنے دے اس وقت وہ وقت جو بچے والدین کے پاس گزاریں ان کی دینی تعلیم کو مکمل کرنے کا ذریعہ بن جائے؟ الفضل ۲۴ اگست ۱۹۵۷ته ) احمدیت کا وہ پودا جو خدائی منشا و حکمت کے تحت قادیان کی سرزمین میں مامور زمانہ کی شبانہ دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ بویا گیا تھا۔جسے آپ کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی جانی۔مالی۔جذباتی اور ہر قسم کی قربانیاں خدائی فضلوں کو جذب کرتے ہوئے پروان چڑھا رہی تھیں اپنی خوبصورتر اٹھان اور سرسبزی کی وجہ سے جہاں دین حق اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق میں خوشی و انبساط کا عالم پیدا کرتا تھا وہاں دشمنوں اور حاسدوں کے لیے سوہان روح بن رہا تھا۔یہی وہ زمانہ تھا جب احمدیت کی منظم طریقی پر مخالفت شروع ہوئی جس کا کسی قدر ذکر گذشتہ اوراق میں آچکا ہے اس مخالفت کے کئی پہلو تھے۔مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جس قوت و مضبوطی سے آواز اٹھائی تھی اور دنیا کو ڈوگرہ راج کے منصوبوں سے آگاہ کیا تھا وہ اپنے اثر افادیت اور نتائج میں انگریزی حکومت اور ہندوؤں کے اندازے اور توقع سے کہیں بڑھ کر تھی۔چنانچہ اس آواز کو دبانے کے لیے مسلمانوں کے ایک ایسے گروہ کو آگے لانے کی کوشش کی گئی جو اسلام کا مقدس نام استعمال کرتے ہوئے ہند و مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو کشمیر میں اسی گروہ کی وجہ سے اسلامی اتحاد میں رخنہ