سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 291 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 291

۲۹۱ علیہ وسلم پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں۔آپ کو خاتم النبیین نہ سمجھتے ہوں آپ کو افضل الرسل لقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لیے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔اس کے مقابلے میں وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبیین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قاتل نہیں بلکہ آپ کی توہین کرنے والے ہیں۔اسے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کون سا فریق اپنے دعویٰ میں سچا ہے کون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی عشق رکھتا ہے اور کون دوسرے پر جھوٹا الزام لگاتا ہے۔مگر یہ شرط ہو گی کہ عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایسے سامانوں سے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاسکیں ؟ الفضل ٣ ستمبر ۹۳۵ ) خانہ کعبہ کی حرمت و عظمت کے متعلق الزام کا فیصلہ کرنے کیلئے بھی حضور نے دعوت مباہلہ دیتے ہوتے فرمایا : - " اس کے لیے بھی دہی تجویز پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کر چکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم سے مباہلہ کر لیں ہم کہیں گے کہ اسے خدا نکرہ اور مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اسے خدا اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ جھوٹ اور منافقت سے کام لے کر کتے ہوں اور ہمارا اصل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پیر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کرے اس کے مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ یہ قسم کھا کر کہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دشمن ہیں اور ان مقامات کا گرنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجاتی جانا احمدیوں کو پسند ہے۔پس اسے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے اور احمدی مکہ و مدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے ہیوی بچوں پر عذاب نازل کرے۔وہ اس طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ دکھاتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہوں تو یاد رکھیں