سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 283
ندي ۲۸۳ میرے پاس آتے۔اور میں نے خود ان کو اس ہدایت سے اطلاع دی۔اور انہوں نے کہا کہ میں پورا انتظام پولیس کا کرا دوں گا۔اس لیے آپ آدمی نہ بلوائیں۔اور ان کے کہنے کے مطابق اس ہدایت کا جاری کرنا منسوخ کر دیا گیا۔اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایسی ہدایت جماعت کے کسی افسر نے بغیر میرے مشورہ کے پہلے سے جاری کی ہوتی ہے ! اسے بھی منسوخ کر کے جماعتوں کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ آدمی نہ بھیجیں۔میں کل فیروز پور گیا تھا۔مجھ سے راستہ میں بعض احمدیوں نے پوچھا کہ کیا انہیں احرار کے جلسہ پر قادیان آنے کی اجازت ہے اور میں نے انہیں اس سے منع کیا۔حکومت سے ایسے تعاون کرنے کے بعد اس قسم کے حکم کا بھجوا دیا حکومت کے وقار کو کھونا ہے اور حکومت کی مضبوطی نہیں بلکہ کمزوری کا موجب ہے اور مجھے افسوس ہے کہ حکومت نے اس قسم کے حکم کو جاری کر کے اس اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے جو اس پر ملک معظم اور ان کی حکومت نے کیا تھا۔بہر حال چونکہ میرا مذہب مجھے وفاداری اور اطاعت کا حکم دیتا ہے۔میں اس حکم کی جس کی غرض سواتے تذلیل اور تحقیر کے کچھ نہیں پابندی کروں گا۔اور انشاء اللہ پوری طرح اس کی تعمیل کروں گا۔باقی اس حکم کی نسبت آئندہ نسلیں خود فیصلہ کریں گی کہ اس کے دینے والے حق پر تھے یا نہ تھے۔وافوض امرى الى الله وهو احكم (خاکسار مرزا محمود احمد ) الحاكمين - ان واقعات سے ظاہر ہے کہ (اول) میں نے جو ہدایت آدمی بلانے کے لیے دی تھی۔اس کے ماتحت احکام جاری ہی نہیں ہوتے۔اور اجراء سے قبل ہی ہدایت منسوخ کر دی گئی۔(دوم) ہمیں حکومت نے کبھی بھی آدمی بلانے سے منع نہیں کیا۔اس لیے سول نافرمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔گذشتہ تاریخ اور روایات بتاتی ہیں کہ اگر ہمارے دس لاکھ آدمی بھی جمع ہو جائیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ شورش کریں گے۔سوائے کسی ایسے افسر کے جو دن شراب پینے میں اور رات عیاشی اور برج کھیلنے میں گزار دے کوئی ہمارے اجتماع پر بدگمانی نہیں کر سکتا۔ہر احمد ی جس کے دل میں ایمان ہے اس کا فرض ہے کہ جماعت کے وقار اور عزت کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہے۔احمدیت صرف نماز روزہ کا نام ہی نہیں اور جو شخص احمدیت کے اعزازہ اور وقار کے لیے اپنی جان اور مال قربان کرنے کو تیار نہیں وہ احمدی نہیں کہلا سکتا۔حکومت نے ہماری پچاس سالہ روایات کو جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فخر کرتے رہے۔حضرت خلیفہ اول فخر کرتے رہے اور