سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 251 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 251

۲۵۱ بهبود و ترقی کی اس تحریک کے خلاف محاذ کھول لیا اور یہ بہانہ بنا کر احمدی کشمیر میں تبلیغ کر رہے ہیں بانی اتحاد کو سبوتاثر کرنا شروع کردیا۔مسلم پریس نے بجا طور پر ان سازشوں کا نوٹس لیا اور مسلمانوں کو باہم مل کر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کو جاری رکھنے کی تلقین کی۔اخبار انقلاب اور سیاست نے مسلسل اپنے اداریوں میں اس طرف توجہ دلائی۔۲۲ مسلم اکا برین نے ایک مشترکہ اپیل کرتے ہوئے لکھا : " بعض مضبوط قرائن سے یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ حکام ریاست کشمیر مسلمانوں کی قوت کو توڑنے کے لیے یہ حربہ استعمال کرنے کے درپے ہیں کہ ان کے اندر فرقہ وارانہ سوال پیدا کریں۔مسئلہ کشمیر ایک مہتم بالشان اسلامی مسئلہ ہے کسی قسم کے فرق داران خیالات کی وجہ سے اس کو کسی قسم کا ضعف پہنچانا اسلام کے ساتھ غداری کے مترادف ہے" الفضل دار اكتوبر السلة )۔اس قابل نفرت جھوٹے پروپیگنڈہ کی تردید کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا : " میرے نزدیک ایسا فعل یقیناً بد دیانتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس بد دیانتی سے محفوظ ہیں۔میں۔۔۔۔۔سب احمدیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کشمیر کی خدمت ایک انسانی ہمدردی کا فعل ہے۔اس نیکی کو کسی ایسی غلطی سے جو بد دیانتی کا رنگ رکھتی ہو خراب نہ کریں اور دوسرے مسلمانوں سے مل کر پوری تندہی سے خالص براداران کشمیر کے نفع کو مد نظر رکھ کر سب کام کریں۔" الفضل ۲۵ اکتوبر السلامه ) آل انڈیا کانگریں اور ان کے ہمنوا مسلمانوں کا مقصد تو مسلم ترقی کی اس کوشش میں رخنہ ڈالنا تھا۔انہیں حقیقت و سچائی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔چنانچہ مسلم مفاد کو پس پشت ڈالتے ہو ہے۔ان لوگوں نے ڈوگرہ حکومت سے ساز باز کی اور مالی منفعت حاصل کرتے رہے۔مشہور کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ صاحب نے اس تشویشناک صورت حال کی اطلاع حضور کی خدمت میں بذریعہ تار بھجواتے ہوئے لکھا: "SECRETARY KASHMIR COMMITEE QADIAN 8SEP, 1931 AHRAR DEPUTATION ARRIVED HERE STAYING AS STATE GUEST۔SHOULD WE CO-OPERATE۔YOUR DEPUTATION BADLY NEEDED۔" (ABDULLAH)