سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 25 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 25

۲۵ تک تنظیم اور حفاظت مرکز کا تعلق ہے خُدام الاحمدیہ نے اچھا کام کیا ہے، لیکن اس کے قیام کی غرض یعنی۔نو جوانوں میں صحیح دینی روح پیدا کی جائے۔پوری نہیں ہوئی حقیقت یہ ہے کہ روحانی جماعتوں کا اُوڑھنا بچھونا سب روحانی ہوتا ہے۔اس میں کوتاہی ہو جائے تو اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اس وجہ سے میں نے صدارت خود سنبھال لی ہے تاکہ میں خود براہ راست ان کی نگرانی کر سکوں الفضل۔ار جنوری شاه ) 121900 اس تبدیلی کے بعد حضور نے نائب صدر کے عہدے کو انتخابی قرار دیا تا نوجوان اپنی رائے کے اظہار اور اس کے بر محل استعمال کے مواقع سے محروم نہ ہوں۔اس بدلے ہوئے انتظام کے مطابق ۹۵ تک ہر دفعہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ہی نائب صدر منتخب ہوتے رہے اور آپ حضور کی زیر ہدایت یہ فرائض خوش اسلوبی سے بجا لاتے رہے۔مجلس کے کام کو احسن طریق پر چلانے کے لیے حضور کی اجازت اورمنشاء کے مطابق اس تنظیم کو مندرجہ ذیل شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔اعتماد - تجنید - مال - تعلیم - تربیت - اصلاح و ارشاد - تحریک جدید - خدمت خلق - صحت جسمانی - وقار عمل - صنعت و تجارت - اشاعت - اطفال - شعبہ اعتماد کے انچارج کو معتمد اور باقی شعبہ جات میں سے ہر شعبہ کے انچارج کو مستم کہا جاتا ہے۔حضور ان شعبوں کے متعلق خدام کو وقتاً فوقتاً نہایت مفید ہدایات سے نوازتے رہے۔جو مشعل راہ کے نام سے ایک ضخیم کتاب کی شکل میں طبع ہو چکی ہیں۔ان میں سے بعض ہدایات جو آپ کی غیر معمولی خداداد قائدانہ صلاحیت و تدبر کا شاہکار ہیں درج ذیل ہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی اور خدمت خلق کی اہمیت کے متعلق حضور فرماتے ہیں :- میں نے بار ہا بتایا ہے کہ خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہو سکے وسعت اختیار کرنی چاہیے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دور کرنا چاہیئے۔خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو۔یا سکھ۔ہمارا خُدا رب العلمین ہے اور میں طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔پس اگر خدا ہمیں توفیق دے تو ہیں سب کی خدمت کرنی چاہیئے۔۔۔۔حسن سلوک میں کسی مذہب کی قید نہیں ہونی چاہتے۔جو شخص بھی اس قسم کے حسن سلوک میں مذہب کی قید لگاتا اور اپنے ہم مذہبوں کی خدمت کے کام کرنا تو ضروری سمجھتا مگر غیر مذہب والوں کی خدمت کرنا