سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 238
کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔" کشمیر کی کہانی صفحه ۴ ۵ تا ۵۶) کشمیر کمیٹی کی قیادت قبول کرنے کے متعلق ڈاکٹر علامہ اقبال کا مندرجہ ذیل بیان بہت دلچسپ حقیقت افروز ہے۔اور اس سے حضور کی عظمت کردار اور خصوصی مقام بھی نمایاں ہوتا ہے۔" سیتھی بات تو یہ ہے کہ جب کشمیر میں تحریک آزادی شروع ہوئی اور ہم نے دیکھا کہ بے چارے کشمیریوں کو مہاراجہ تباہ کر کے رکھ دے گا تو مجھے اور دیگر مسلمان لیڈروں کو خیال پیدا ہوا کہ کشمیریوں کی کیسے مدد کی جاتے۔ہم نے سوچا اگر ہم نے جیسے وغیرہ کئے اور کارکنوں اور سرمایہ کے لیے تحریک کی تو اول تو دیانتدار کا رکن نہ ملیں گے اور سرمایہ جمع نہیں ہوگا اور جو سرمایہ جمع ہو گا وہ بے ایمان کا رکن کھا جائیں گے۔اور اس دوران میں مہاراجہ تحریک کو کچل کر رکھ دیگا۔کام فوراً شروع ہو جانا چاہیئے۔ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی شخصیت ہے کہ اگر وہ اس تحریک کی قیادت منظور کرے تو دیانتدار کا رکن بھی مہیا کرے گی۔سرمایہ بھی جمع کرے گی۔وکلا - وغیرہ بھی خود دیگی اخبارات میں ، ولایت میں اور یہاں بھی پراپیگنڈہ وہ خود کرلے گی۔اور وائسرائے اس کے سیکرٹریوں سے ملاقات بھی خود کرے گی۔وہ شخصیت مرزا محمود احمد ہیں؟" ہفت روزہ لاہور ۲۶ مئی ۱۹۶۵ ( اور اور اس بیان کی تائید ان کے اس خط سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے ہر ستمبر نستہ کو حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری کے نام لکھا : رو چونکہ آپ کی جماعت منظم ہے اور نیز بہت سے مستعد آدمی اس جماعت میں موجود ہیں۔اس واسطے آپ بہت مفید کام مسلمانوں کے لیے انجام دے سکیں گے؟ اس غلط کا عکس تاریخ احمدیت صفحہ ۴۶۵ جلد ۶ میں شائع ہو چکا ہے۔پہلا یوم کشمیر ، حضرت مصلح موعود نے حیرت انگیز تیزی ومستعدی کے ساتھ مسلمانان کشمیر کی خدمت کا کام شروع فرما یاور کشمیر کمیٹی کے قیام کے ابتدائی چند دنوں میں ہی ہندوستان بھر میں ایک جوش و ولولہ پیدا کر دیا اور ۱۴ اگست دست کو یوم کشمیر منانے کی اپیل کی۔خود حضور نے اس غرض کے لیے ایک مضمون لکھا جس میں آپ نے فرمایا :