سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 235
۲۳۵ ریاست آخر کار برطانیہ کے ماتحت ہے۔اور موجودہ حکمران جو محض ایک چیف تھا۔ریاست اور اختیارات کے لیے حکومت برطانیہ کا ممنون احسان ہے۔اس لیے حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے لیے بے میں مسلمانوں کی شکایات کے ازالہ کے لیے جو کچھ کر سکتی ہے کرنے سے دریغ نہ کرے۔کشمیر کی اپنی علیحدہ زبان ہے اور اس کا تمدن اور مذہب وغیرہ جیبوں سے بالکل جدا گانہ ہے۔اس لیے ڈوگرا وزراء سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں کسی بہتری کی توقع نہیں ہو سکتی۔اور انہیں اس وقت تک امن حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کی اپنی وزارت کے ذریعہ مہاراجہ جموں ان پر حکومت نہ کریں۔لہذا انسانیت کے نام پر میں یورا یکیسی نسی سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ کشمیر کے لاکھوں غریب مسلمانوں کو جنہیں برٹش گورنمنٹ نے چند سکوں کے عوض غلام بنا دیا۔ان مظالم سے بچائیں تا کہ ترقی اور آزاد خیالی کے موجودہ زمانہ کے چہرہ سے یہ سیاہ داغ دور ہو سکے۔کشمیر بے شک ایک ریاست ہے۔مگر اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ نا انصافی سے پنجاب سے علیحدہ کیا گیا ہے۔اور دوسرے صوبہ جات کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان کشمیری مسلمانوں پر ان مظالم کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔اگر حکومت ہند اس میں مداخلت نہ کرے گی تو مجھے خطرہ ہے مسلمان اس انتہائی ظلم و ستم کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے گول میز کانفرنس میں شمولیت سے انکار نہ کر دیں اور انتہائی مایوسی کے عالم میں کانگریسی رو میں نہ بعد الفضل ۱۸ جولائی اولة ) ایک زمانہ قبل 1911ء میں حضور کشمیر تشریف لے گئے۔اہالیان کشمیر پر ظلم وستم کے واقعات آپ کے ذہن میں تھے۔اس سفر میں بھی آپ نے وہاں کے حالات کا بنظر غائر مشاہدہ فرمایا اور ایک حاذق طبیب کی طرح مرض کی وجوہ و اسباب معلوم کر کے اس کے سدباب کے لیے جو علاج تجویز فرمایا جائیں۔وہ مختصراً یہ تھا کہ " باہم اتفاق و اتحاد سے رہو" " تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دو " " اقتصادی حالت کی بہتری کے لیے کوشش کرو"