سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 234 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 234

صرف باتوں مشوروں اور تجاویز میں وقت ضائع کرنے کی بجائے آپ نے حکومت تک مسلمانوں کی حالت زار اور ڈوگرہ حکومت کی زیادتیوں اور مظالم کو پہنچانے کے لیے وائسرائے کے نام مندرجہ " ذیل مفصل تار دیا جو الفضل ۱۸ جولائی اساتہ کے پہلے صفحہ پر شائع ہوا۔یور اکیسی لنسی کشمیر میں مسلمانوں کی خستہ حالی سے ناواقف نہیں۔تازہ ترین اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر نہایت ہی خلاف انسانیت اور وحشیانہ مظالم کا ارتکاب شروع ہو گیا ہے۔۱۳ جولائی کو سری نگر میں جو کچھ ہوا۔وہ فی الواقعہ تاسف انگیز ہے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق نو مسلمان ہلاک اور متعدد مجروح ہوتے ہیں لیکن پرائیویٹ اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ سینکڑوں مسلمان ہلاک اور مجروح ہوتے ہیں۔ریاست سے آنے والی تمام خبروں پر سخت سنسر ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں جو تار موصول ہوا۔وہ سیالکوٹ سے دیا گیا ہے۔ہز ہائنس مہاراجہ کشمیر کے تازہ اعلان کے معا بعد جس میں انہوں نے اپنی مسلم رعایا کو کئی طرح کی دھمکیاں دی ہیں اس قسم کی واردات کا ہونا صاف بتاتا ہے کہ یا تو غریب مسلمانوں پر بلا وجہ حملہ کر دیا گیا ہے اور یا ایک نہایت ہی معمولی سے بہانہ کی آڑ لے کر ان بے چاروں کو سفاکی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے، لیکن ان کے حقوق بے دردی سے پامال کئے جا رہے ہیں۔اس وقت وہاں مسلم گریجوایٹوں کی تعداد بہت کافی ہے۔مگر انہیں کوئی ملازمت نہیں دی جاتی۔یا اگر بہت مہربانی ہو تو کسی ادنی سے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔اور جب ایک ملک کی ۹۵ فیصدی آبادی کو اس کے جائز حقوق سے صریح نا انصافی کر کے محروم رکھا جائے۔اس کے دل میں ناراضگی کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے ، لیکن نہایت ہی افسوس ہے کہ ریاست کے ذمہ دار حکام بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے جائز مطالبات منظور کریں۔ان کی خفگی کو رائفلوں اور بک شاٹ سے دُور کرنا چاہتے ہیں۔جموں کے حکمرانوں نے کشمیر کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ انگریزوں نے اسے ان کے ہا تھے ایک حقیر سی رقم کے بدلے فروخت کر دیا تھا۔لہذا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے۔حکومت برطانیہ بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔مزید برآں