سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 231 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 231

۲۳۱ جلد سے جلد لاہور یا سیالکوٹ یا راولپنڈی میں منعقد کی جائے۔اس کا نفرنس میں جموں اور کشمیر سے بھی نمائندے بلوائے جائیں اور پنجاب اور اگر ہو سکے تو ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے مسلمان لیڈروںکو بھی لگایا جاتے۔اس کا نفرنس میں نہیں پورے طور پر جموں اور کشمیر کے نمائندوں سے حالات سنگر آئندہ کے لیے ایک طریق عمل تجویز کر لینا چاہیئے۔اور پھر ایک طرف حکومت ہند پر زور ڈالنا چاہیئے کہ وہ کشمیر کی ریاست کو مجبور کرے کہ مسلمانوں کو حقوق دیتے جائیں۔دوسری طرف مہاراجہ صاحب کشمیر وجموں کے سامنے پورے طور پر معاملہ کو کھول کر رکھ دینے کی کوشش کی جائے تاکہ جس حد تک ان کو غلط فہمی میں رکھا گیا ہے وہ غلط فہمی دور ہو جائے اور اگر ان دونوں کوششوں سے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ایسی تدابیر اختیار کی جاتیں کہ جن کے نتیجہ میں مسلمانان جموں و کشمیر وہ آزادی حاصل کر سکیں جو دوسرے علاقہ کے لوگوں کو حاصل ہے چونکہ ریاست ہندو ہے۔ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ ہم اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ رتیں کے خاندان کے لیے چھوڑ دیں، لیکن یہ سی صورت میں تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ ۹۵ فیصدی آبادی کو پانچ فیصدی بلکہ اس سے بھی کم حق دے کر خاموش کرا دیا جائے میرے خیال میں کشمیری کا نفرنس نے جو کچھ کام اس وقت تک کیا ہے۔وہ قابل قدر ہے لیکن یہ سوال اس قسم کا نہیں کہ جس کو باقی مسلمان کشمیریوں کا سوال کہہ کر چھوڑ دیں۔مسلمانان جموں و کشمیر کو اگر ان کے حق سے محروم رکھا جائے تو اس کا اثر صرف کشمیریوں پر ہی نہیں پڑے گا۔بلکہ سارے مسلمانوں پر پڑے گا۔اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے مسلمان تماشائی کے طور پر اس جنگ کو دیکھتے رہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا نفرنس کی دعوت کشمیری کا نفرنس کی طرف سے جاری ہونی چاہیئے ، لیکن دعوت صرف کشمیر لوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیتے بلکہ تمام مسلمانوں کو جو کوئی بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔اس مجلس میں شریک ہونے کی دعوت دینی چاہیئے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر متحدہ کوشش کی جائے تو اس سوال کو جلد سے جلد حل نہ کیا جا سکے (۱۲ جون له ) ) الفضل ۶ ارجون ۱۹۳۱ة ) او مجھے جو اطلاعات کشمیر سے آرہی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں سینکڑوں آدمی اس امر کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنی جان اور مال کو قربان کر کے