سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 218
۲۱۸ بڑا تعجب ہوا اور میں نے اس سے کہا کہ کشمیری تو بہت بوجھ اُٹھانے والے ہوتے ہیں۔تم سے یہ عمولی ٹرنک بھی نہیں اُٹھایا جاتا۔وہ کہنے لگا میں مزدور نہیں ہوں میں تو زمیندار ہوں۔اپنے گاؤں کا معزز شخص ہوں اور دولہا ہوں جو برات میں جا رہا تھا کہ مجھے راستہ میں تحصیلدار نے پکڑ لیا اور اسباب اُٹھانے کے لیے آپ کے پاس بھیج دیا۔میں نے اسی وقت اُسے چھوڑ دیا کہ تم جاؤ ہم کوئی اور انتظام کر لیں گے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کس قدر ادتی اور گری ہوئی حالت میں تھے۔میں نے خود کشمیر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سو دو سو کے قریب مسلمان جمع ہیں اور ایک ہندو ان کو ڈانٹ رہا ہے اور وہ بھی کوئی افسر نہیں تھا بلکہ معمولی تاجر تھا اور وہ سارے کے سارے مسلمان اس کے خوف سے کانپ رہے تھے " تحریک کشمیر کے ابتدائی واقعات بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- نے۔جب تحریک کشمیر کا آغاز ہوا۔اس وقت شملہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں میں بھی شامل ہوا۔سراقبال اس وقت زندہ تھے۔وہ بھی شریک ہوئے۔سر میاں فضل حسین صاحب بھی موجود تھے۔ان سب نے مجھ سے کہا کہ اس بارہ میں آپ وائسراے سے ملیں اور اس سے گفتگو کر کے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک کشمیر کے معاملات میں دخل دے سکتا ہے جس حد تک وہ دخل دے سکتا ہو۔اس حد تک ہمیں یہ سوال اُٹھانا چاہتے۔چونکہ گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ ریاستی معاملات میں زیادہ دخل نہ دیا جائے۔اس لیے وائسرائے سے پہلے مل لینا ضروری ہے۔تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ وہ کسی حد تک ان معاملات میں دخل دے سکتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ میں اس مجلس میں اس شرط پر شریک ہو سکتا ہوں کہ وائسرائے سے نہیں بلکہ ہم کشمیر لوں سے پوچھیں گے کہ تمہارے کیا مطالبات ہیں اور پھر ہم کوشش کریں گے کہ گورنمنٹ اُن مطالبات کو منظور کرے۔یہ طریق درست نہیں کہ وائسرائے سے پوچھا جائے کہ وہ کس حد تک دخل دے سکتا ہے بلکہ ہم سب سے پہلے کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور پھر ان کے مطالبات کو پورے زور کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے رکھیں گے۔سراقبال کہنے لگے۔پھر آپ ہی اس کمیٹی کے پریذیڈنٹ بن جائیں۔ہمیں آپ کی صدارت پر اتفاق ہے۔میں نے کہا میں ند