سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 217 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 217

۲۱۷ ہے پھر کشمیر میں اسلئے بھی پیارا ہے کہ وہاں قریباً اتنی ہزار احمدی ہیں۔۔۔۔پس ہیں دعائیں کرتے رہنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں کی مدد کرے۔آخر کشمیر وہ ہے جس میں مسیح اول دفن اور مسیح ثانی کی بڑی بھاری جماعت وہاں موجود ہے۔۔۔۔۔جس ملک میں دو مسیجوں کا دخل ہے وہ ملک ہر حال مسلمانوں کا ہے اور مسلمانوں کو ہی ملنا چاہیئے۔ہمیں ہر وقت خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہیئے کہ لہ تعالیٰ انہیں اپنے مستقبل کے متعلق خود فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے۔۔۔۔۔۔اور ان کے رستہ میں کوئی منصوبہ اور کوئی سازش روک نہ بنے ؟ ر الفضل ۲۳ فروری ۹۵له مسلمانان کشمیر ایک عرصہ سے ڈوگرہ راج کے استداد و ظلم کی چکی میں میں رہے تھے اور انہیں عام انسانی حقوق سے محروم کر کے غلاموں کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔حضور کو ان ائیروں کی رستگاری کے لیے شاندار خدمات سرانجام دینے کی توفیق حاصل ہوئی۔اس کی کسی قدر تفصیل حضور کے اپنے الفاظ میں درج ذیل ہے۔" پھر اسیروں کی رستگاری کے لحاظ سے کشمیر کا واقعہ بھی اس پیشگوئی کی صفات کا ایک زبر دست ثبوت ہے اور ہر شخص جو ان واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی کشمیر لوں کی رستنگاری کے سامان پیدا کئے اور ان کے دشمنوں کو شکست دی کشمیر کی قوم اس طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی کہ گورنمنٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ زمین انکی نہیں بلکہ راجہ صاحب کی ہے گویا سارا ملک ایک مزارع کی حیثیت رکھتا تھا۔اور راجہ صاحب کا اختیار تھا کہ جب جی چاہا۔اُن کو نکال دیا۔انہیں نہ درخت کاٹنے کی اجازت تھی اور نہ زمین سے کسی اور رنگ میں فائدہ حاصل کرنے کی۔بے گار کا یہ حال تھا کہ شہ میں میں کشمیر گیا تو ایک مقام سے چلتے وقت میں نے تحصیلدار سے کہا کہ ہمارے لیے کسی مزدور کا انتظام کر دیا جائے۔اس نے رستہ میں سے ایک شخص کو پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دیا کہ اس کے سر پر اسباب رکھوا دیں۔ہم نے اُسے سامان دے دیا۔مگر ہم نے دیکھا کہ وہ راستہ میں بار بار ہائے ہائے کرتا تھا۔آخر ایک جگہ پہنچ کر اس نے تھک کر رنگ نیچے رکھدیا۔میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے