سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 201 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 201

اروند ۲۰۱ دے اور پولینڈ کی حکومت پھر سے قائم کی جائے تو جو پولز اس علاقہ میں لیتے ہیں ان کا تبادلہ ان علاقوں کے جرمنوں سے کر دیا جائے جو کو منگنز برگ سے لے کر پوشش کاریڈو رنگ رہتے ہیں ان علاقوں کے جرمنوں کو اپنے حلیف کے ملک میں رہنے کے لیے بھجوا دیا جائے اس طرح جرمنوں اور یوکرینین کی آبادی پولینڈ میں فساد بھی پیدا نہ کرتی رہے گی اور پولینڈ کو سمندر تک کا اچھا راستہ بھی مل جائے گا۔غرض میرے نزدیک اس نبی مشکل کا سہل حل یہی ہے کہ جرمنی کے فعل کی قیمت اسی سے وصول کی جائے اور روس سے جھگڑے کی صورت کو نظر انداز کر کے جرمن کی تدبیر کو نا کام کر دیا جائے ؟ ) الفضل ۲۱ ستمبر ۱۹۳۹ اس امر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضور نے مزید فرمایا : " اب روس اور جرمنی انگریزوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے متحد ہو چکے ہیں بیشک ان میں شدید اختلاف ہیں۔بے شک وہ ایک وقت میں ظاہر ہوں گے لیکن کوئی نہیں کہ سکتا کہ یہ اختلافات ابھی ظاہر ہو جائیں گے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ فضل کرکے کل ہی جرمنی اور روس میں لڑائی چھڑا دے " الفضل ۲۱ ستمبر ۱۹۳۹) جنگ کے حالات پر نظر ڈالنے سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ روس کے جرمنی سے بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ جرمنی کو غیر فوجی امداد بھی برابر دے رہا تھا مگر خدائی تصرف سے حالات میں کچھ اتش طرح کا انقلاب آیا کہ روس اور جرمنی کے تعلقات اس حد تک بگڑ گئے کہ روس باقاعدہ اتحادیوں کیسا تحفہ شامل ہو گیا اور جنگ کا سارا نقشہ ہی بدل کر رہ گیا اور جرمنی کی ساری توقعات حسرتوں میں تبدیل ہوگئیں۔بعض خدائی نشانات کا ذکر : جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور اس سلسلہ میں بعض خدائی نشانوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے جلسہ سالانہ ۹۳۱ نہ کی تقریر میں ارشاد فرمایا : " یہ جنگ اب ہندوستان کے کناروں تک آگئی ہے پہلے تو جرمن مشرق کی طرف بڑھ رہے تھے وہ تو روس میں رک گئے مگر ادھر سے جاپان نے جنگ شروع کر دی ہے۔رنگون پر بمباری ہو چکی ہے اور وہاں سے چند سو میل کے فاصلہ یہ کہ ہی ہندوستان ہے اور جاپانی اب بھی اگر چاہیں تو ہندوستان کے شہروں پر بمباری کر سکتے ہیں اور آجکل کی بمباری بھی نہایت خطرناک ہے۔۔۔۔۔بمباری کیا ہے گویا ایک جہنم کا دروازہ کھل گیا ہے۔امریکہ