سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 20 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 20

کو اپنا ئیں۔صدق و صفا۔دیانت و امانت اور عدل وانصاف میں وہ نمونہ ہوں۔اخبار و استقلال کا مجسمہ بن جائیں اور شجاعت اور دلیری کا وہ پیکیر ہوں۔انکی عفت و عصمت کی ملا تک تک قسمیں کھائیں علم اور بردباری۔نرمی اور درگذر کی خو ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتے۔خدمت خلق کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو۔تکبر - نخوت۔بدلتی اور غیبت ریا اور نام ونمود کی زہروں سے ان کا دامن پاک ہو۔غرض تمام اخلاق فاضلہ سے ان کا قلب صافی متصف اور تمام اخلاق رویہ سے ان کا چین دل مکمل طور پر پاک ہو۔اسی تسلسل میں فرمایا :- " اس امر کو اچھی طرح سمجھ لوکہ جب تک یہ جسم مکمل نہیں ہو گا اس وقت تک مذہب کی روح بھی قائم نہیں رہ سکتی۔گویا ایمان ایک روح ہے اور اخلاق فاضلہ اس روح کا جسم ہیں پس میں۔خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔ان میں جھوٹ کی عادت نہ ہو۔غیبت کی عادت نہ ہو۔چغل خوری کی عادت نہ ہو۔ظلم کی عادت نہ ہو۔دھوکہ اور فریب کی عادت نہ ہو۔غرض جس قدر اخلاق ہیں وہ ان میں پیدا ہو جائیں اور جس قدر بدیاں ہیں اُن سے وہ بچ جائیں تاکہ وہ قوم کا ایک مفید جسم بن سکیں۔اگر ان میں یہ بات نہیں تو وفات مسیح پر لیکچر دنیا یا منہ سے احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا کیونکہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں رہ سکتی اور کوئی جسم بغیر روح کے مفید کام نہیں کر سکتا۔جسم کی مثال ایک پیالے کی سی ہے اور روح کی مثال دُودھ کی سی۔جس طرح دودھ بغیر پیالہ کے زمین پر گر جاتا ہے۔اسی طرح اگر اخلاق فاضلہ کا جسم تیار نہیں ہوگا توتمہارے نیچر اور تمہاری تمام تقریریں زمین پر گر کرمٹی میں دھنس جائیں گی، لیکن اگر اخلاق فاضلہ کا پیالہ انکے دلوں میں رکھ دو گے۔تو پھر وعظ بھی انہیں فائدہ دے گا۔اور تقریریں بھی ان میں نیک تغیر پیدا کر دیں گی " ) الفضل ۴ ۱ مارچ ۹۱ ) اسی طرح آپ نے ہدایت فرمائی کہ نوجوانوں میں وہ خوبیاں اور خصوصیات پیدا کی جائیں جو دنیادی نقطہ نظر سے ان کی کامیابی اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہوں۔اور ان کی سیرت و کردار کی تشکیل کے لیے