سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 19
۱۹ سته کے لیے بھی کسی گلاس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام کی روح کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کسی گلاس کی ضرورت ہے اور ہمارے خدام الاحمدیہ وہ گلاس ہیں جن میں اسلام کی روح کو قائم رکھا جائے گا۔اور ان کے ذریعہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے گا الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۹۵ ) ایک بیدار مغز ماہر باغبان کی طرح جو اپنے باغ کے ہر درخت پر ہر وقت نظر رکھتا ہے آپ کی نظر نو جوانوں کی اخلاقی، روحانی و جسمانی بہتری و ترقی کی طرف رہتی تھی۔اور اس مقصد کے رستہ میں حائل ہونے والی ہر چیز کو دور کرنے کے لیے آپ ہر وقت قول بلیغ اور موعظہ حسنہ سے کام لیتے ہوئے نوجوانوں کے معیار کو ہر لحاظ سے بلند سے بلند تر دیکھنا چاہتے تھے۔آپ کے بعض نہایت مفید ارشادات جو آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔درج ذیل ہیں : " ہماری کوئی انجمن ہو اس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے۔اگر قرآن اور احادیث میں بیان کردہ اسلامی تعلیم سے الگ ہو کر ایک شوشہ بھی بیان کیا جاتے بلکہ ایک زبرا در ایک زیر کا بھی اضافہ کیا جائے تو وہ یقیناً گھر ہوگا۔الحاد ہوگا اور اس کی اشاعت سے دُنیا میں علم نہیں پھیلے گا۔بلکہ جہالت اور بے دینی میں ترقی ہوگی۔پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآنی تعلیم کو بجھیں اور اس کو اپنے دلوں اور دماغوں میں پوری مضبوطی سے قائم کریں " الفضل 9 نومبر اته ۲۱۹۴۴ نوجوانوں میں صحیح اسلامی عقائد کے متعلق کامل ایمان پیدا کیا جائے۔توحید الہی اور رسالت و خاتمیت محمدی پر نوجوان سچا یقین رکھتے ہوں اور اس کے لیے ان کے دل میں سیقی غیرت ہو جو ان کی روح اور رگ و ریشہ میں سرایت کر کے انکی زندگی اور ہر حرکت و سکون پر محیط ہو جائے اور پھر خدا تعالیٰ اور اس کے پاک حبیب حضرت محمد مصطفے " سے محبت و الفت کی آگ غیر اللہ کے خس و خاشاک کو چھونک دے۔نوجوان اچھی طرح سمجھے ہیں کہ ان کا خدا واحد خُدا ہے۔اس کی قدرتوں میں کوئی شریک نہیں۔اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں۔اس کا حکم چلتا ہے اور اسی کے حکم کے مطابق اس کے رسولوں کی اطاعت فرض اور حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاتمیت پر ایمان لانا اور آپ سے محبت کرنا واجب ہے۔نوجوانوں کو تلقین کی جائے کہ وہ اسوہ رسول کی پیروی کرتے ہوئے اخلاق فاضلہ