سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 195
۱۹۵ پھر اتحادی ٹیم نے طاقت پکڑ لی اور انہوں نے فٹ بال کو دوسری طرف دھکیل دیا جرمن یہ دیکھ کر واپس دوڑے اور انگریز بھی فٹ بال کو لے کر دوڑنے لگے۔مگر جب وہ گول کے قریب پہنچ گئے تو وہاں انہوں نے کچھ گول گول سی چیزیں بنا لیں جن کے اندر وہ بیٹھے گئے اور باہر یہ بھی بیٹھ گئے۔بعینہ اسی طرح گذشتہ جنگ میں جرمن شکر نے جب حملہ کیا تو اس کی فوجیں بڑھتے بڑھتے پیرس تک پہنچ گئیں۔یہاں تک کہ گورنمنٹ کے ذخائر بھی دوسری جگہ تبدیل کر دیئے گئے۔مگر پھر اسے واپس لوٹنا پڑا۔اور جب وہ سرحد پر واپس لوٹ آیا تو وہاں اس نے ٹرینچز (TRENCHES ) بنائیں اور اس کے اندر بیٹھ گیا۔اور اس طرح چار پانچ سال تک وہاں لڑائی ہوتی رہی۔) الموعود صفحه ۱۱۲ ) انگلستان پر جرمنی کے عملہ اور انگریزی اور فرانسیسی حکومتوں کے الحاق کی پیش خیری۔" انگلستان اور جرمنی کی بھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ میں نے دہر مسالہ میں جہاں میں ان دنوں تبدیل آب و ہوا کے لیے مقیم تھا۔رویارہ میں دیکھا کہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوں اور میرا منہ مشرق کی طرف ہے کہ ایک فرشتہ آیا۔اور اس نے جیسا کہ سرشتہ دار ہوتے ہیں بعض کا غذات میرے سامنے پیش کرنے شروع کر دیتے۔وہ کا غذات انگلستان اور فرانس کی باہمی خط و کتابت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے مختلف (DOCUMENTS ) خط کے ڈاکو منٹس کے بعد ایک ڈاکو منٹ میرے سامنے پیش کیا گیا۔میں نے اُسے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک چٹھی ہے جو انگریزی حکومت کی طرف سے فرانسیسی حکومت کو لکھی گئی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ ہمارا ملک سخت خطرہ میں گھر گیا ہے۔جرمنی اس پر حملہ آور ہونے والا ہے اور قریب ہے کہ اُسے مغلوب کرے۔اس لیے ہم آپ سے خواہش کرتے ہیں کہ انگریزی اور فرانسیسی دونوں حکومتوں کا الحاق کر دیا جائے۔دونوں ایک نظام کے ماتحت آجائیں اور دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیا جائے کہ دونوں کے شہریت کے حقوق کیساں ہوں۔یہ چٹھی پڑھ کر خواب میں میں سخت گھبرا گیا اور قریب تھا کہ اسی گھبراہٹ میں میری آنکھ گھل جاتی کہ یکدم مجھے آواز آئی کہ یہ چھ ماہ پہلے کی بات ہے یعنی اس حالت کے چھ ماہ بعد حالات بالکل بدل جائیں گے۔اور انگلستان کی خطرہ کی حالت جاتی رہے گی۔یہ رویا۔میں نے اپنی دنوں بعض دوستوں کو سنا دیا تھا۔جب میں نے یہ رویا۔دیکھا۔اس وقت