سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 193 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 193

۱۹۳ اللہ تعالیٰ نے متواتر اور کثرت کے ساتھ مجھ پر غیب کی خبروں کا اظہار کیا ہے۔مگر میں مناسب نہیں سمجھتا کہ ان کی عام اشاعت کروں۔۔۔۔۔۔۔جن دوستوں کو میں نے رویا و کشوف بتاتے ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبل از وقت جبکہ اتحادی ابھی بالکل امن میں تھے اور جبکہ انہیں اپنی طاقتوں پر کامل اطمینان اور بھروسہ تھا مجھے بڑی بڑی تباہیوں بڑی بڑی ہلاکتوں اور بڑے بڑے تغیرات کی خبر دی گئی تھی اور ان رویا و کشوف اور الہامات کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ ابھی مصائب کا دروازہ اور زیادہ وسیع ہو گا، لیکن جس حد تک مصائب میں وسعت ظاہر ہو چکی ہے وہ بھی ایسی ہے کہ ہر عقل و سمجھ رکھنے والے اور خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کا خوف اپنے دل میں محسوس کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور دُعاؤں میں مشغول ہو جائے۔ہمارے قیاسات اور ہماری عقلیں بہت ہی محدود درنگ رکھتی ہیں ایک خیال کر لیتا ہے کہ اس وقت جرمنی کا ترقی کرنا بہتر ہے دوسرا قیاس کر لیتا ہے کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کی ترقی دُنیا کے لیے مفید ہے کوئی کسی کی فتح کو مفید سمجھتا ہے اور کوئی کسی کی شکست کو دُنیا کے لیے ضروری سمجھتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ خواہ کسی کا جینا بہتر تصور کیا جائے انگریزوں اور فرانسیسیوں کا یا جرمنی اور اطالیہ کا دنیا کی تباہی اور بربادی میں تو کوئی شبہ نہیں وہ بہتری جس کی لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں وہ تو شاید سینکڑوں سال میں ظاہر ہو مگر آج کی جنگ میں جس طرح لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔جس طرح تباہی اور بربادی چاروں طرف محیط ہو رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ جنگ اس طرح جاری رہی تو دُنیا میں سو میں سے شاید دس پندرہ آدمی ہی زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔اس قسم کی پیشگوئیاں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا یہ آخری فتنہ نہایت ہی ہیبت ناک ہے۔۔۔۔۔۔ان پیشگوئیوں) کے پورا ہونے کے آثار اب ظاہر ہورہے ہیں اور سخت قابل رحم حالت ہے ان ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی جو روزانہ میدان جنگ میں زخمی ہوتے اور تباہ وبرباد ہوتے جارہے ہیں پھر تعجب یہ کہ اس لڑائی کی وجہ کوئی اعلیٰ درجہ کے رُوحانی اصول نہیں۔جن کی خاطر اس قسم کی لڑائی کو جائز قرار دیا جاسکے وہ اس لیے نہیں لڑ رہے کہ خدائے واحد کی