سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 188
JAA کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کو اب معجزہ کے سوا کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خود فرانسیسیوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ فرانس اب کہاں بیچ سکتا ہے۔صفیں ٹوٹ گئی ہیں اور فوجیں پسپا ہو رہی ہیں مگر جہاں برطانیہ و فرانس کی صفیں ٹوٹیں وہاں جرمن فوجیں جو اپنے مورچوں سے سینکڑوں میں آگے نکل چکی تھیں اُن کو سامان رسد پہنچنا بھی کوئی آسان نہ تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ادھر برطانیہ فرانس کی فوجیں پسپا ہوئیں اور ادھر جرمنوں نے اپنے اندر کمزوری محسوس کی اور انہوں نے سمجھا کہ سامان کی کمی کی وجہ سے اگر ہم اس وقت آگے بڑھے تو مارے جائیں گے۔چنانچہ ادھر جرمنی میں ٹھریں اور ادھر برطانیہ و فرانس نے اس التواء سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے فوراً نتے مورچے بنانے شروع کر دیتے نتیجہ یہ ہوا کہ چودہ پندرہ تاریخ کو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی جو حالت تھی اس سے آج اس تاریخ کو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔اس دن خود انگریزوں اور فرانسیسیوں میں بے چینی پیدا ہو چکی تھی مگر آج وہ اطمینان کا سانس لے رہے ہیں اور اب پھر انہوں نے فتح کے نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں۔انگریزی وزیر اشاعت نے تو ایک تقریر کرتے ہوئے گھلے طور پر کہہ دیا ہے کہ ہٹلر کے لیے پہلے صلح کی مجلس میں ہم نے ایک کرسی رکھی ہوئی تھی مگر اب اُسے معلوم ہونا چاہتے کہ وہ کرسی اُٹھا دی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں سامانوں کے جمع ہو جانے اور بیداری اور ہوشیاری کی وجہ سے اس بات کا احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اب وہ شکست نہیں کھا سکتے۔اس کے مقابلہ میں جرمن کو بھی اس بات کا احساس ہوتا چلا جا رہا ہے کہ جتنی جلدی فتح کی امیدیں اس نے ابتدا۔میں لگائی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔اب جرمن کے براڈ کاسٹنگ میں یہ ہوتا ہے کہ ہماری قوم کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیتے یہ ایک بڑی بھاری لڑائی ہے جو لڑی جارہی ہے۔ہمیں بے شک کامیابی کی امید رکھنی چاہیتے لیکن بہت جلد کامیابی حاصل کرلینے کا خیال درست نہیں۔حالانکہ رہٹلر نے) آپ ہی تقریر کی تھی جو میں نے خود سنی کہ جو لوگ فرانسیسی ایپس رٹھنڈے پہاڑوں پر گرمیاں گزارنا چاہیں یا سیر کا شوق رکھتے ہوں وہ اپنے نام لکھا دیں۔