سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 171
کی تالیف ہے اور جس میں قرآن مجید سے متعلق متعدد قیمتی مضامین کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ بھی شامل ہے۔قرآن مجید کا یہ ترجمه گذشته تمام انگریزی ترجموں سے ترجمہ کی عمدگی اور طباعت وغیرہ کی خوبیوں کی وجہ سے سبقت لے گیا ہے اس میں کی گئی عمدہ تفسیر کا جدید علمی انداز بہت سی نئی معلومات اور حقائق و معارف دین حنیف پر آگاہی بخشتا ہے۔در پیانچہ میں نہایت عالمانہ رنگ میں معترضین اسلام با الخصوص مستشرقین کے احترات باطلہ کا رد کیا گیا ہے " مستشرقین نے قرآنی تراجم و تفاسیر کی آڑ میں اسلام پر اعتراضات کا ایسا طرز عمل اختیار گئے رکھا ہے کہ ان کی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام ایک دقیانوسی اور ناقابل عمل ہی نہیں ایک وحشیانہ اور خوفناک مذہب نظر آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعانہ جنگیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیر حکمت تعقد و ازدواج اسلامی پر وہ مسلمان عورتوں کے حقوق اور متعدد دوسرے مسائل بلکہ اسلامی عبادات پر بھی ایسے متعصبانہ طریق پر اعتراض کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا اصل مقصد تحقیق یا علمی خدمت کی بجاتے غلط پروپیگنڈہ اور نفرت کے جذبات پیدا کرنا ہے۔اس کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض سادہ کوح مسلمان مصنفین نے اپنی سادگی کی وجہ سے اپنی کتب میں بعض ایسی روایات بھی درج کر دی ہیں جن کا ماخذ و منبع صحیح اسلامی تعلیم نہیں بلکہ یہودی روایات ہیں۔قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ وتفسیر بلکہ تمام احمد بہ لٹریچر میں اس امر کا پورا التزام کیا گیا ہے کہ کلام الہی کی عظمت ظاہر ہو اور مستشرقین کے اعتراضات کا مدتل و مسکت جواب دیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی عرب پولیس نے اس امر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے تبصرہ میں جہاں ترجمہ کی انگریزی زبان و طباعت وغیرہ کے لحاظ سے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے وہاں یہ امر بھی نمایاں طور پر بیان کیا ہے کہ اس ترجمہ میں مستشرقین کے اعتراضات کا قلع قمع کیا گیا ہے۔۔۔۔۔