سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 139
ہے جویہ دعوی کرتا ہوکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے قرآن سکھا یا گیا ہے تو میں ہروقت اس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔خدا۔۔نے مجھے علم قرآن بخشا ہے اور اس زمانے میں اس نے قرآن سکھانے کیلئے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے۔۔۔۔۔ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا :- الموعود و صفحه ۲۱۰ - ۲۱۱ ) " میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا۔ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں۔مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آجاتے اور ایسے علم کا مدعی آجاتے جس کا میں نے نام بھی نہ گنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پر پیش کرے اور میں اسے لاجواب نہ کر دوں تو جو اس کا جی چاہیے کہے۔ضرورت کے وقت ہر علم خدا مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہے جو مقابلہ میں ٹھہر سکے۔۵۳ ر ملائكة الله منه ) ہ مجھے الہ تعالی نے ایک رویا - دکھایا میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں مشرق کی طرف میرا منہ ہے کہ آسمان پر سے مجھے ایسی آواز آئی جیسے گھنٹی بجتی ہے یا جیسے پتیل کا کوئی کٹورہ ہو اور اسے ٹھکوریں تو اس میں سے باریک سی مٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی۔یہانتک کہ تمام جو میں پھیل گئی۔اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ آواز متشکل ہو کر تصویر کا چوکھٹا بن گئی پھر اس چوکھٹے میں حرکت پیدا ہونی شروع ہوئی اور اس میں ایک نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی تصویر نظر آنے لگی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر ملنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اس میں سے کود کر ایک وجود میرے سامنے آگیا اور کہنے لگا میں خدا کا فرشتہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ میں تمہیں سورۃ فاتحہ کی تفسیر کھاؤں میں نے کہا سکھاؤ وہ سکھاتا گیا۔سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا یہاں تک کہ جب وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین تک پہنچا تو کہنے لگا آج تک میں قدر مفسرین گزرے ہیں ان سب نے ہیں تک تفسیر کی ہے، لیکن میں تمہیں آگے بھی سکھانا چاہتا ہوں میں نے کہا سکھاؤ۔چنانچہ وہ سکھاتا چلا گیا یہاں تک کہ ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر اس نے