سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 122
۱۲۲ میں ہیں۔جس محبت سے یہ سارا خاندان ہماری خدمت کر رہا ہے۔اس کی مثال پاکستان میں مشکل سے ملتی ہے۔برادرم سید بدرالدین حصنی شام کے بہت بڑے تاجر ہیں لیکن خدمت میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ خادم زیادہ نظر آتے ہیں رقمیں کم نظر آتے ہیں۔یہاں چونکہ سردی بہت ہے اور یورپ کی طرح HEATING SYSTEM نہیں ہے۔مجھے سردی کی وجہ سے تکلیف زیادہ ہو گئی ہے۔یہاں کے قابل ڈاکٹر کو بلایا گیا جس کے معائنہ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ واقعی قابل ہے۔فرانس کا پڑھا ہوا ہے۔بعض امور جو تجربہ سے بیماری کو بڑھانے 01 والے معلوم ہوئے تھے ان کو اس نے بڑی جلدی اخذ کر لیا۔منور احمد نے بتایا کہ جب ہم ڈاکٹر کو فیس دینے لگے تو سید منیر الحصنی صاحب نے بڑے زور سے رو کا یہ ہمارا خاندان کا ڈاکٹر ہے ہم اس کو سالانہ فیس ادا کرتے ہیں۔اس کو فیس نہ دیں۔۔۔۔۔اب یہ برگردام ہے کہ انشاء اللہ سات تاریخ کو ہم بیروت جائیں گے اور آٹھے کو اٹلی روانہ ہوں گے۔چوہدری صاحب انشاء اللہ ساتھ ہی ہونگے۔ان کی ہمراہی بہت تسلی اور آسائش کا موجب رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے دلوں میں ایسی محبت کا پیدا کرنا محض اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔انسان کی طاقت نہیں۔اس لیے ہم اللہ تعالیٰ کے ہی شاکر ہیں کہ اس نے ہمارے لیے وہ کچھ پیدا کر دیا جو دوسرے انسانوں کو باوجود ہم سے ہزاروں گنے طاقت رکھنے کے حاصل نہیں ؟ الفضل درمئی ۹۵لة ) حضرت مصلح موعود کے قائم مقام پرائیویٹ سیکرٹری مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے قیام وشتق کے سلسلہ میں اپنی رپورٹ میں تحریر کیا کہ : " سید نا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی کی اپنی زبان مبارک سے احباب نے یہ واقعہ سنا ہوگا کہ جب حضور ہ میں یہاں تشریف لائے تو میاں کے ایک مشہور فاضل جناب عبد القادر مغربی سے ملے۔انہوں نے گو اس بد خلقی کا اظہار نہ کیا جو بعض دوسر گلاں کرتے تھے لیکن حضور سے کہا کہ آپ ہرگز یہ امید نہ رکھیں کہ یہ لوگ جن کی زبان عربی ہے اور جو خود دین کو بخوبی سمجھتے ہیں کسی وقت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوة والسلام