سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 107 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 107

حالت پر فرشتے رحم کریں۔1·4 و شخط مرز امحمود احمد 1900, الفضل ۷ ار مارچ ۱۹۵۵ ) اس تاریخی سفر میں مندرجہ ذیل افراد خاندان واحباب جماعت کو حضور کے ہمراہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔حضور کی بیگمات ، حضرت سیدہ ام ناصر مرحومه حضرت سیده ام وسیم مرحومه حضرت سید اتم من صاحبه حضرت سیده در آپاشان مکرم صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (وکیل التبشير - محرم بیگم صاحبہ صاحبزاده مرا مبارک احمد صاحب - محترمہ صاحبزادی عائشه صاحبه بنت صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب - مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب - مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی) مکرم صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب - مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب مکرم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب - مکرم میردا و و احمد (مرحوم) محترمہ صاجزادی امتہ الباسط صاحب بیگم میر داؤد احمد مرحوم - محترم صاحبزادہ قمر سلیمان صاحب - محترمہ صاحبزادی امتها الجمیل صاحبہ محترمہ صاحبزادی امته المتین صاحبہ - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب معالج خاص مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ قائم مقام پرائیویٹ سیکرٹری محرم چوہدری محمد شریف اشرف صاحب اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری مکرم کیپٹن محمد حسین صاحب چیمه افسر حفاظت مکرم بابا رحم دین صاحب رانہیں حضور کے پہلے سفر یورپ میں بھی خدمت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔) حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اس سفر میں اپنے طور پر حضور کے ہمراہ رہے اور خوب خدمت کی۔مکرم میر محمود احمد صاحب اس وقت انگلستان میں موجود تھے اور انہیں بھی حضور کی معیت کی سعادت حاصل رہی۔اس خوش قسمت قافلہ میں سے مندرجہ ذیل آٹھ افراد تو کراچی سے دمشق اور پھر باقی سفر میں حضور کے ہمراہ رہے مگر دوسرے اصحاب قافلہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی زیر امارت کراچی براه راست لندن گئے اور وہاں حضور کے ہمراہ رہے۔حضرت سیده ام متین صاحبہ - حضرت سیده مهر آیا صاحبه محترمه صاجزادی امتہ المتین صاحبه محترمہ صاحبزادی امتہ الجمیل صاحبہ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاب