سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 95
۹۵ تھی۔مسجد لندن نہ صرف لوگوں کے لیے ایک زبر دست کشش کا ذریعہ ہے بلکہ اس کا وجود خود ایک تبلیغ مجسم ہے جس اسلامی تعلیم کو ہمارے مبلغ الفاظ کے ذریعہ لوگوں کے آگے پیش کرتے ہیں مسجد تصویری زبان میں اس کا ایک نمونہ ہے میں تبلیغ کے مقصد میں مسجد لندن بڑی ممد و معاون ہے۔وہ خود ایک مستقل مبلغ ہے اور اس کا وجود نہایت مبارک ہے۔ر الفضل ۲۸ اگست ۹۳۷له ) ر اس مرکز توحید کے ذریعہ تبلیغ و اشاعت اسلام اور مسلمانوں کی تربیت کے وہ نا قابل فراموش عظیم کام سرانجام پائے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔اور تو اور برصغیر میں مسلمانوں کی سیاسی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد اسی مسجد میں رکھی گئی۔جب قائد اعظم محمد علی جناح نے جو ایک عرصہ سے دل شکستہ و مایوس ہو کر لندن میں ہی رہائش پذیر ہو چکے تھے۔مولانا عبدالرحیم صاحب درد امام مسجد لندن کے متواتر و پیم اصرار سے اپنی سیاسی زندگی کا پھر سے آغاز کرتے ہوئے پہلی تقریر اس مسجد میں کی جس کا سارا انتظام امام رضا موصوف نے کیا تھا اور جس کا ذکر برٹش پریس نے بھی کیا۔اور یہ امرکسی بھی باخبر پاکستانی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یہی آغاز جو مسجد فضل لندن سے ہوا تھا۔مسلمانوں کی امیدوں کے مرکز پاکستان کے قیام پر مسیح ہوا۔ر اس امر کی تفصیل حضرت مصلح موعوضو کی ملی وسیاسی خدمات کے تذکرہ میں آگے آئے گی انشاء الله اس مسجد کے ذریعہ جو تبلیغی اور رفاہی خدمات انجام پائیں اور اکابرین امت نے اس مرکز کی غیر معمولی اسلامی خدمات کو جو خراج تحسین پیش کیا اور پھر موجودہ زمانہ میں حضرت امیرالمومنین خلیفہ مسیح الرائع ایدہ اللہ تعالیٰ کے وہاں قیام کی وجہ سے خدمت و ترقی کے جو نئے افق سامنے آرہے ہیں وہ ایک مستقل اور مفصل تصنیف کے متقاضی ہیں۔البتہ یہاں یہ امر بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ ء میں اس مسجد کی بنیاد رکھتے ہوئے خدا کے ایک مقرب بندے نے خاص قبولیت کی گھڑی میں کہا تھا کہ : خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرماتے اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لیے اس مسجد کو نیکی۔تقویٰ۔انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود نبی اللہ بروز و نائب محمد علیهما الصلوۃ والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک میں اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے رو