سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 94
۹۴ جاتے ہوئے کچھ لٹریچر بھی لے گئے۔ان سٹوڈنٹس میں سے کئی ایک نے خط و کتابت کیلئے ان دوستوںکو اپنا پتہ بھی دیا اور ان کا پتہ خود لکھ لیا۔اور دوسرا طریق درد صاحب نے ایک نیا تجویز کیا جو حاضرین کے لیے دلچسپی کا موجب بھی ہوا اور اس طرح تبلیغ بھی ہو گئی۔آپ نے جرمن سٹوڈنٹس کو مخاطب ہو کہ کہا کہ اس جگہ مختلف زبانیں جاننے والے دوست موجود ہیں۔آپ لوگوں کے لیے انہیں اپنی اپنی بولی میں تقریر کرتے ہوئے سُننا دلچسپی کا موجب ہو گا۔پس ان دوستوں میں سے بعض اپنی اپنی زبان میں تقریر کریں بعد میں وہ خود یا میں انگریزی زبان میں ان تقریروں کا ترجمہ کر دوں گا۔سب نے اس تجویز کو پسند کیا۔چنانچہ اپنے دوستوں میں سے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے پنجابی میں۔مولوی جلال الدین صاحب شمس نے عربی میں۔میر عبدالسلام صاحب نے اردو میں اور ایک کینیا کے دوست نے افریقہ کی سواحیلی زبان میں تقریریں کیں۔اور ان میں سے بعض نے خود بعد میں اپنی تقریر کا مضمون انگریزی میں بیان کیا۔اور بعض کی تقریر کا جناب درد صاحب نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔اور خود بھی انگریزی میں تقریر کی۔اور ان سب تقریروں میں تبلیغ کے مقصد کو مدنظر رکھا گیا۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنی تقریر میں اس بات کو واضح کیا کہ آج تمام قوموں میں صلح اور محبت صرف مذہب کے ذریعہ قائم ہو سکتی ہے۔اور وہ مذہب جو ایسی صلح اور محبت قائم کر سکتا ہے اسلام ہے۔ان سب تقریروں کا جواب ایک جرمن خاتون نے جرمن زبان میں دیا۔اس کے بعد جناب در و صاحب نے ہر ایک کو احمدیہ الہم کی ایک ایک کاپی بطور تحفہ دی جو انہوں نے بڑی خوشی سے قبول کی۔یہ کتاب بھی ایک قسم کا آئینہ ہے جس سے انسان سلسلہ احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ترقی کا ایک حد تک اندازہ لگا سکتا ہے۔یہ تحفہ بھی اور تبلیغ کا ذریعہ بھی ہے۔اس کے بعد انہوں نے مسجد کے اندر جاکر مسجد کو دیکھا اور اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کیں۔ایک نومسلم خاتون سلیمہ نامی نے جو قادیان بھی گذشتہ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر پہنچ گئی تھی۔اس وقت جرمن خواتین کو اچھی طرح تبلیغ کی اور رب وار دین ایک نیک اثر لے کر رخصت ہوئے۔اس موقعہ پر جن احمدی احباب کو ان جزین سٹوڈنٹس سے تعارف حاصل ہوا۔اگر وہ خط وکتابت کے ذریعہ اس تعارف سے فائدہ اُٹھائیں تو بہتر نتائج پیدا ہونے کی توقع ہو سکتی ہے۔سٹوڈنٹس کی تعداد ۷۵ کے قریب