سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 93
۹۳ حالات جمع کر رہا ہوں۔میں اس کتاب میں اس مسجد کے متعلق اور اسلامی طریق عبادت اور اسلامی تعلیم کے متعلق بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس نے ضروری حالات جمع کئے۔اور اپنے مضمون کا مسودہ درد صاحب کے پاس بغرض اصلاح بھیجا۔افراد کے علاوہ بعض سوسائیٹیوں کے مبر ملکر بھی مسجد میں آتے ہیں۔اور نہایت دلچسپی کے ساتھ سلسلہ کے حالات اور اسلامی تعلیم کا ذکر سنتے ہیں اور سیسوسائیٹیاں صرف لندن سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ بیرونی ممالک سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔اور اس طرح اس جگہ کے مبلغ صرف انگلستان میں ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی احسن طور پر تبلیغ کا حق ادا کر رہے ہیں۔اس کی ایک دلچسپ مثال جرمنی کے طلباء کی پارٹی ہے جو ہر سال انگلستان میں ایک رنگ کا علمی دورہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔یہ مختلف سکولوں سے آتے ہیں اور ہر سال عموماً نئے طالب علم ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ ان کے استاد اور استانیاں بھی ہوتی ہیں اور با قاعدہ انتظام کے ساتھ لندن اور دوسرے مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔یہ اچھی پختہ عمر کے نوجوان ہوتے ہیں۔میری موجودگی میں ایسی پارٹیاں دو دفعہ آتی ہیں یہاں کے ایک ہیڈ ماسٹر درد صاحب کے گہرے دوست ہیں۔اور وہ ایسی پارٹیوں کے مسجد میں لانے کے محرک ہوتے ہیں۔ان کو راور ایسا ہی دوسری سوسائیٹیوں کے ممبروں کو مسجد دیکھ کر طبعاً اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔اور ان کی اس دلچسپی سے پورا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس سال ان جرمن طالب علموں کی پارٹی ۲۰ جولائی کو مسجد میں آئی۔درد صاحب نے ان کو پہلے سے چائے کی دعوت دی ہوئی تھی۔چائے کے موقعہ پر درد صاحب نے ایسا انتظام کیا کہ ہر میز پہ ایک احمدی دوست بٹھا دیا تا کہ دوران گفتگو میں وہ ان کو سلسلہ اور اسلام کے متعلق تبلیغ کریں اور چونکہ ان جرمن سٹوڈنٹس میں عورتیں بھی تھیں۔اس لیے تبلیغ کرنے والوں میں بعض ہماری نو مسلم خواتین بھی شامل تھیں۔ہر ایک نے اپنے اپنے دائرہ میں تبلیغ کی۔جس کے نتیجہ میں بعض کو اسلام سے خاص دلچسپی بھی پیدا ہو گئی۔چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے ہمارے ایک دوست سے وعدہ کیا کہ میں کل پھر مسجد میں آؤں گا۔اور اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کروں گا۔چنانچہ دوسرے دن وہ خود بھی آیا اور اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ لایا۔اور ہمارے احمدی دوست نے اور درد صاحب نے بہت دیر تک ان سے گفتگو کی۔اور وہ