سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 62 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 62

۶۲ لیے روانہ ہوئے۔روانگی سے قبل محویت و توجہ کی ایک خاص کیفیت سے حضور نے ایک پر سوز بھی اجتماعی دعا کروائی۔حضور نے عرشہ جہاز سے جماعت کے نام ایک محبت بھرا پیغام دیا۔" تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ مجھے کسقدر محبت تم سے ہے۔۔۔۔۔یہ جدائی صرف جهانی ہے میری روح ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی اور ہے اور رہے گی۔میں زندگی میں یا موت میں تمہارا ہی ہوں۔الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۲۴ ) جس طرح اس تار کے ہر لفظ سے حضور کی دلی محبت ظاہر ہوتی ہے اسی طرح جب جہاز حرکت میں آیا تو جہاز کا جوحصہ بھی دوستوں کے قریب ہوتا یا جہاں سے دوست نظر آرہے ہوتے حضور دوڑ کر اس طرف جاتے اور پھر دُعا شروع کر دیتے اس طرح کبھی اس طرف سے اور کبھی اس طرف سے اور کبھی وسط جہاز میں کھڑے ہو کر دعائیں کرتے۔آپ کی محرومیت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ آپ نے برستی بارش کی بھی پرواہ نہ کی اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ بارش میں کھڑے کھڑے آپ کے کپڑے بھیگ چکے ہیں۔جہاز کے روانہ ہوتے ہی مون سون کا موسم ہونے کی وجہ سے سمندر میں شدید تلاطم و طوفان کی سی صورت ہوگئی اور حضور کے اکثر ساتھی سمندری بیماری تھے اسهال وغیرہ سے شدید بیمار ہو گئے اس حالت میں بھی حضور نے احباب کے آرام کا ہر وقت خیال رکھا سب کی عیادت فرما نے انکی ضروریات معلوم کر کے انہیں پورا کر وانے کی کوشش کرتے رہے۔دوران سفر قادیان کی یاد یں نظمیں پڑھی سنی جاتی رہیں۔مگر ان سب باتوں سے مقدم اسلام کی سربلندی اور شعار اسلامی کے قیام کا فکر تھا۔چنانچہ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا : یورپ کے متعلق مجھے اس بات کا خطرہ اور فکر نہیں ہے کہ اس کا مذہب کیونکر فتح کیا جائے گا۔مذہب کے متعلق تو مجھے یقین ہے کہ عیسائیت اسلام کے سامنے جلد سرنگوں ہوگی مجھے اگر فکر ہے تو صرف یہ ہے کہ یورپ کا تمدن اور یورپ کی ترقی اور دماغی ترقی کا کیونکر مقابلہ کیا جائے۔یہی دو باتیں ایسی ہیں جن پر غور و فکر کرتے ہوتے راتیں گزار دیتا ہوں اور گھنٹوں اسی سوچ میں پڑا رہتا ہوں " اسلامی شعار اور تمدن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : " جس قوم کے پاس لباس بھی اپنا نہیں اور دوسرے کے لباس کو اپنے لباس سے اچھا سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہتی ہے اس قوم نے اس کا مقابلہ کیا کرتا ہے۔فرمایا۔آنحضرت اور