سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 57
۵۷ ہدایت کی گئی تھی کہ اس معاملہ کو عام مجلس میں پیش کریں اور پھر جو فیصلہ ہو اس سے آگاہ کریں اس طرح جب جماعت کے نہایت ہی کثیر حصہ نے سلسلہ کے اغراض و مقاصد کے لیے یہی ضروری سمجھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی - - - - - - بذات خود اس سفر کی تکلیف گوارا فرمائیں تو حضور نے جماعت کی اس رائے کے احترام اور اغراض اسلام کی خاطر با وجود کثیر مشکلات کے خود ہی عزم سفر فرمایا " الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۲۴ ته اس انتہائی اہم سفر پرآمادگی کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔۔ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے۔اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں۔۔۔۔۔۔۔۔مغربی ممالک میں تبلیغ کے کام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو رو به پیہ خرچ ہوتا ہے۔اس کی خدا تعالیٰ کو جواب دہی سے عہدہ برآ ہونا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان علاقوں میں جاکر ان کی مشکلات کو دیکھے اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان ضروریات کو مد نظر رکھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کا نفرنس کی تحریک کو ایک خدائی تحریک سمجھ کر اس وقت با وجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں۔مذہبی کا نفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کے لیے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کے لیے کیونکہ وہ ممالک ہی اسلام کے راستہ میں ایک دیوار میں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے ؟" الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۲ ) یہ لٹریچر کے ہر طالب علم پر بخوبی واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رویا و کشوف اور خاص طور پر پیشگوئی مصلح موعود میں بین الاقوامی اشاعت و تبلیغ اور قوموں کے برکت پانے کا جو ذکر تھا وہ بھی اس عظیم الشان سفر کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔جماعت کے افراد اور بعض غیرانہ جماعت لوگوں نے بھی یہ نظارے دیکھے کہ یہ سفر کئی لحاظ سے پرانی پیش خبریوں کو پورا کرنے والا اور بابرکت ہوگا۔حضرت مصلح موعود کو بھی اس سفر کے نتیجہ میں فتح و ظفر کے حصول کی بشارت ملی جسے بیان کرتے ہوئے حضور ارشاد فرماتے ہیں :۔اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی بشارت دی تھی کہ میرے ولایت جانے سے