سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 396 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 396

۳۹۶ جماعت احمدیہ کی صداقت اور دعاوی پر کامل یقین وایمان کا آئینہ دار یہ پر شوکت بیان بھی حضور نے اسی جلسہ میں ارشاد فرمایا کہ : "اگر میں اس بیان میں سچا ہوں اور آسمان وزمین کا خدا شاہد ہے کہ میں سچا ہوں تو یاد رکھنا چاہتے کہ آخر ایک دن میرے اور میرے شاگردوں کے ذریعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ساری دنیا پڑھے گی اور ایک دن آئے گا جب ساری دنیا پر اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ شان کے ساتھ اسلام کی حکومت قائم ہو جائے گی جیسا کہ پہلی صدیوں میں ہوتی تھی " (فرقان اپریل ۱۹۲۲ م ) حضور کے عزم و ہمت اور جماعت کی ترقی و بہبودی اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے فریضہ کی بہتر ادائیگی کے لیے یکے بعد دیگرے ان تحریکات اور تجاویز اور حضور کے اس لائحہ عمل کی خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی تائید ہوتی۔جس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے ۱۴ ر اپریل ۱۹۳۳ء کے خطبہ جمعہ میں خدا تعالیٰ کا یہ پیغام سناتے ہوئے فرمایا : " مجھ پر ایک الہام نازل ہوا جس نے میرے ہوش اُڑا دیئے۔وہ الہام یہ تھا جو خود ایک مصرعہ کی شکل میں ہے کہ 8 روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے" ------- اللہ تعالیٰ اس الہام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو مخاطب کرتا اور اسے فرماتا ہے کہ اسے احمدی جماعت ! جو ہمارا حصہ تھا ہم نے اسے پورا کر دیا۔جننے سامان یوم جزا کو قریب تر لانے کے لیے ضروری تھے وہ ہم نے سب مہیا کر دیتے اور اسلام اور احمد تیت کی فتح کے سامان ہم نے جمع کر لیے۔پس اب قریب ترین زمانہ میں اس فتح کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔قریب ترین زمانہ میں اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے راستے دنیا میں کھل جائیں گے مگر بعید ہے وہ راستہ جو ابھی تم نے طے کرنا ہے اور جس پر چل کر تم نے اس روز جزا سے فائدہ اُٹھانا ہے وہ ابھی بہت بعید ہے مجھے جب یہ الہام ہوا تو میں نے اس وقت سوچا کہ گو میں جماعت کو جلدی جلدی آگے کی طرف اپنا قدم بڑھانے کی تحریکات کر رہا ہوں جس سے بعض لوگ ابھی سے گھبرا اٹھے ہیں کہ کتنی جلدی جلدی نئی سے نئی تحریکیں کی جارہی ہیں کبھی وقف جائیداد کی تحریک کی جاتی ہے کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جاتی ہے کبھی کالج کی تعمیر کے لیے چندہ کی تحریک کی جاتی ہے۔