سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 385
۳۸۵ تحدیث نعمت : اہم مقامات پر جلسوں کا انعقاد : حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی تضرعات اور ابتہال کی قبولیت اور رحمت و قدرت اور قربت کے اس نشان کے اس شان سے پورا ہونے پر کہ جس سے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوا اور باطل اپنی نحوستوں کے ساتھ بھاگتا ہوا اور حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہوا نظر آنے لگا۔حضرت مصلح موعود نے تحدیث نعمت - دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت کی خاطر بعض اہم مقامات پر عام جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ فرمایا چنانچہ : ۲۰ فروری ۱۳ہ کو ہوشیار پور ۱۲ مارچ نہ کو لاہور ۲۳ مارچ ۹۴۳ہ کو لدھیانہ ۱۶ اپریل ۱۹۴۷ تہ کو دہلی میں شاندار جلسے منعقد ہوئے۔ان جلسوں میں شرکت کے لیے حضور کی طرف سے خاص ہدایت جاری ہوتی تھیں جس کے مطابق جلسہ میں شریک ہونے والے خوش قسمت احمدی ذکر الہی اور دعاؤں کے خاص التزام کے ساتھ بڑے وقار اور بردباری سے صحیح اسلامی تعلیم و تربیت کا نقشہ پیش کرتے ہوئے اس طرح سفر کرتے کہ دیکھنے والے اس نظارہ سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ ایک مشہور معاند احمدیت نے اپنے اخبار میں لکھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ صحابہ مکہ فتح کرنے جارہے ہیں ان سفروں کے انتظامات کی نگرانی بالعموم حضرت میر محمد احاق صاحب کے زمہ تھی۔جنہوں نے اپنے حسن انتظام اور مومنانہ تدبر و فراست سے ان جلسوں میں شرکت کے لطف کو دوبالا کر دیا۔ان جلسوں میں حضور کی خواہش کے مطابق بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے فریضہ کی ادائیگی کی سعات پانے والے مبلغین کرام اپنی خدمات کا مختصر تذکرہ کرتے جس سے ثابت ہوتا کہ حضرت مصلح موعود کے ذریعہ قور میں برکت حاصل کر رہی ہیں اور دین اسلام کا شرف ومرتبہ ظاہر ہو رہا ہے۔حضور اپنی تقریر سے پہلے بعض قرآنی ادعیہ کا اس طرح ورد فرماتے کہ سارے مجمع پر سوز در قمت طاری ہوتی۔معاصر الفضل اس کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے : " حضرت مصلح موعود تقریر کے لیے کھڑے ہوتے اور تشہد و تعوذ کے بعد حضور نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت فرمائی۔حضور جب اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْقِيمَ صِرَا الَّذِينَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" کے قرآنی الفاظ پر پہنچے تو حضور نے دوبارہ اپنی با برکت