سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 348
کرتا ہے جو تقسیم وطن کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے دھکے کو برداشت کر کے نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں مصروف ہے۔اور ایک دفعہ پھر دنیا پر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ خدائی تائب یافتہ اولیا۔اللہ کی شان دنیوی لیڈروں اور خود ساختہ پیروں سے کتنی مختلف اور ارفع و اعلیٰ ہوتی ہے۔اس سکیم کی اہمیت و افادیت کا اندازہ حضور کے مندرجہ ذیل ارشاد سے ہوتا ہے۔"میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تاکہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کرسکیں۔۔۔۔۔۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے بران نہیں ہے، لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔۔۔۔۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لیے وقف کریں۔۔۔۔۔اور باہر جاکر نتے رہوے اور نئے قادیان بسائیں۔۔۔۔۔۔۔وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھے جائیں اور حسب ہدایت وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔اسی طرح حضور فرماتے ہیں :۔۔۱۹۵۸ الفضل ۶ فروری سے ) " یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لیے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں۔کپڑے بیچنے پڑیں میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔خداتعالی ------ میری مدد کے لیے فرشتے آسمان سے اتاریگا الفضل جنوری شدولة ) اس یقین اور وثوق - اعتماد اور توکل علی اللہ سے جاری ہونے والی سکیم جس طرح قدم بہ قدم آگے بڑھی اور جس طرح شاندار شیریں ثمرات کی حامل ہوئی اس کا ایمان افروز تذکرہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کے ایک پرانے مضمون میں بیان ہوا ہے۔حضور کو بطور ناظم وقت جدید ایک لمبا عرصہ اس تحریک سے بہت قریبی تعلق رہا حضور کا یہ حقیقت افروز مضمون ذیل میں پیش کیا