سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 324
۳۲۴ احمدی ماؤں نے اپنے اکلوتے بچوں کو راہ خدا میں پیش کر دیا۔حضور نے سادہ زندگی گزارنے کی تلقین فرمائی تھی۔جماعت حضور کی توقعات پر پوری اُتری اور سادہ زندگی کی وجہ سے اپنے اخراجات کم کر کے بلکہ اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے اموال خدا کی راہ میں پیش کر دیتے۔امانت فنڈ کے مطالبہ کو حضور کی توقع سے بھی بڑھ کر پورا کیا۔تبلیغ کے میدان کو وسیع کرنے کا مطالبہ تھا جماعت نے دیوانہ وار اس کام کو شروع کیا اور کوئی دشت خار اور کوہ ماراں ان کے رستہ کو نہ روک سکا۔حضور جماعت کی قربانی اور مطالبات کی تعمیل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔دنیا میں تو یہ جھگڑے ہوتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی کہتی ہے مجھے زیور بنوا دو اور میاں کہتا ہے میں کہاں سے زیور بنوا دوں میرے پاس تو روپیہ ہی نہیں، لیکن میں نے اپنی جماعت میں سینکڑوں جھگڑے اس قسم کے دیکھتے ہیں کہ بیوی کہتی ہے میں اپنا زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتی ہوں مگر میرا خاوند کہتا ہے کہ نہ دو کسی اور وقت کام آجائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایسا اخلاص بخشا ہے کہ اور عورتیں تو زیور کے پیچھے پڑتی ہیں اور ہماری عورتیں زیور لے کر ہمارے پیچھے پھرتی ہیں۔میں نے تحریک وقف کی تو ایک عورت اپنا زیور میرے پاس لے آئی۔میں نے کہا ئیں نے سر دست تحریک کی ہے کچھ مانگا نہیں۔اس نے کہا یہ درست ہے کہ آپ نے مانگا نہیں ، لیکن اگر کل ہی مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی اور میں یہ زیور خرچ کر بیٹھی تو پھر میں کیا کروں گی۔میں نہیں چاہتی کہ میں اس نیکی میں حصہ لینے سے محروم نہ ہوں۔اگر آپ اس وقت لینا نہیں چاہتے تو ہر حال یہ زیور اپنے پاس امانت کے طور پر رکھ لیں اور جب بھی دین کو ضرورت ہو خرچ کر لیا جائے۔میں نے بہتیرا اصرار کیا کہ اس وقت میں نے کچھ مانگا نہیں مگر وہ یہی کہتی چلی گئی کہ میں نے تو یہ زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے اب میں اسے واپس نہیں لے سکتی۔یہ نظارے غربابہ میں بھی نظر آتے ہیں اور امراءہ میں بھی لیکن الفضل ۲۲ جون ۱۹۴۶ امراء میں کم اور غرباء میں زیادہ " اسی طرح حضور فرماتے ہیں :۔"۔١٩٤٦ ۹۳۴اہ کے آخر میں جماعت میں جو بیداری پیدا ہوتی اس کے نتیجہ میں جماعت نے ایسی غیر معمولی قربانی کی روح پیش کی جس کی نظیر اعلیٰ درجہ کی زندہ قوموں میں بھی مشکل سے مل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔تحریک جدید کے پہلے دور میں ؛ حباب نے غیر معمولی کام کیا اور ہم