سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 318
قربانیوں کی مثال جماعت کی اپنی پہلی قربانیوں کی شاندار روایات میں تلاش کرنا بھی بے سود ہے۔بلکہ بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ ایسی قربانیوں کی مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی خوش قسمت بانی تحریک جدید حضرت مصلح موعود جماعت کو ایسی ہی قربانیوں کے لیے تیار کر رہے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے تحریک جدید کو قربانیوں کے سمندر کا ایک قطرہ قرار دیتے ہوئے فرمایا :- ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ پہلے اس چیز کو سمجھے کہ وہ ہے گیا۔جب تک اس مقام کو وہ نہیں سمجھتی اس وقت تک اسے اپنے کاموں میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے۔جو شخص فطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب کو دے گا۔پانی کے قطرے سے تو وہی ڈرتا ہے جسے دباؤ لے ) گتے یعنی شیطان نے کاٹ لیا ہوئی الفضل در جولاتی سولة ) اس تحریک کو زندگی بخش قرار دیتے ہوئے حضور اپنے ایک ولولہ انگیز بیان میں فرماتے ہیں :۔میں نے تحریک جدید شروع کی میں سمجھتا ہوں اپنے دل میں اسلام کا درد رکھنے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا جس کے سامنے یہ تحریک پیش کی جاتی کہ اس چندہ کے ذریعہ ایک مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے گا جو دائمی طور بالا اسلام کی تبلیغ کے کام آئیگا اور وہ یہ تحریک سننے کے باوجود اس میں حصہ نہ لیتا بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر ایک مرتے ہوئے یا ایمان انسان کے کانوں میں بھی یہ تحریک پہنچ جاتی تو اس کی رگوں میں خون دوڑ نے لگتا اور وہ سمجھتا کہ میرے خدا نے میرے مرنے سے پہلے ایک ایسی تحریک کا آغاز کرا کے اور مجھے اس میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر میرے لیے اپنی جنت کو واجب کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کی ہرقسم کی قربانیوں میں حصہ لیں اور جو وعدے انہوں نے کئے ہوتے ہیں انہیں پورا کریں اور سمجھ لیں کہ یہ ایک موت ہے جس کا ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔تم میں سے گئی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے سینما نہیں دیکھا ہم مر گئے۔تم میں سے کئی ہیں جو کتے ہیں ہم ہمیشہ ایک کھانا کھاتے ہیں ہم تو مر گئے۔تم میں سے کہتی ہیں جو کہتے ہیں نہیں تو ہمیشہ سادہ رہنا پڑتا ہے ہم تو مر گئے۔تم میں سے کئی نہیں جو کہتے ہیں ہیں رات دن چندے دینے پڑھتے ہیں ہم تو مر گئے۔میں کہتا ہوں ابھی تم زندہ ہو میں تو تم سے حقیقی موت کا مطالبہ